سعودی عرب میں یوم الغضب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ہم ایک سرکردہ شیعہ رہنما سے ان کے گھر پر انٹرویو کر رہے تھے کہ ایک آواز آئی ’غیر ملکیوں سے بات مت کرو۔‘

ٹیلی فون کی گھنٹی ان کی بات میں مخل ہوئی۔ یہ کوئی سرکاری ایجنسی کا آدمی تھا جو ہمارا پیچھا کرتے ہوئے ان کے گھر تک آن پہنچا تھا اور گھر کے باہر ہی کھڑا تھا۔

ڈاکٹر توفیق السیف ہنسے اور انھوں نے فون رکھ دیا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اندازہ نہیں کہ اب چیزیں کتنی بدل گئی ہیں۔

ہم سعودی عرب کے مشرقی شہر قطیف میں تھے جو سعودی عرب میں شیعہ آبادی کا علاقہ ہے اور جہاں گزشتہ ہفتے حکومت مخالف جلوس بھی نکالے گئے تھے۔

ان مظاہرین میں زیادہ تر وہ لوگ شریک ہوئے جن کے رشتہ دار قید میں ہیں اور وہ ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

کچھ لوگ ملک کے مختلف شہروں میں اس جمعہ کو ’یوم الغضب‘ کے طور پر منانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

سیاسی اصلاحات کا مطالبہ ابھی کئی حلقوں کی طرف سے کیا جا رہا ہے جن میں شیعہ، سنی، قدامت پسند اور معتدل خیالات کے سب ہی لوگ شامل ہیں۔ اسی وجہ سے حکام کو خطرہ ہے۔

ڈاکٹر السیف نے جو ایک شیعہ دانشور ہیں دوسرے سرگرم لوگوں کے ساتھ ایک مشترکہ مقصد بنا لیا ہے۔

انھوں نے انٹر نیٹ پر موجود تین میں سے دو یاداشتوں پر دستخط کر رکھے ہیں جن میں سلطنت میں زیادہ جمہوریت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایک وقت ایسا تھا کہ بی بی سی سے بات کرنے کے جرم میں انھیں گرفتار کر لیا جاتا اور ایسا اب بھی ہو سکتا ہے۔

انھوں نے مجھ سے کہا کہ تیونس، مصر، بحرین اور لیبیا کے بعد مشرقی وسطی میں حالات بدل گئے ہیں اور سعودی عرب ان حالات سے الگ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ہر ریاست پریشانی کا شکار ہے اور انھیں پریشان ہونا بھی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ وہ تبدریج تبدیلی چاہتے ہیں نہ کہ انقلاب۔

’میں نہیں سمجھتا کہ لبرل ڈیموکریسی کو کل ہی لایا جا سکتا ہے لیکن ہمیں کہیں سے تو شروع کرنا ہوگا۔‘

برابری، قانون کی عملداری، ملک اس کے لیے تیار ہے اور ہمیں اس عمل کو شروع کرنا چاہیے۔‘

مظاہرین ابتداء میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن اب ان کے مطالبات بڑھ گئے ہیں۔

اس ملاقات کے بعد حکام نے بڑے احترام مگر سخت الفاظ میں ہمیں ملک کے مشرقی حصے سے نکل جانے کو کہا۔

لیکن اس سے پہلے کے ہمیں دارالحکومت واپس بھیجنے کے لیے جہاز پر سوار کرایا جاتا، سرکاری اہلکاروں نے چند حکومت کے حامیوں سے ہماری بات کرانے کا انتظام کر دیا۔

وہ اس بات سے پریشان تھے کہ ایک قبائلی سماج میں ڈیموکریسی کس طرح کام کر سکتی ہے۔

قطیب شہر کے ایک اعلی گھرانے سے تعلق رکھنے والے عدیب الخنوزی نے کہا کہ استحکام اور سکیورٹی اس خطے کے لیے بہت اہم ہیں۔

ایک سرکردہ تاجر سلمان الجسی نے کہا کہ لوگوں کو بادشاہ سے پیار ہے اور ایک ایسے ملک میں جہاں لوگ اپنی درخواستیں براہ راست حکمرانوں تک لے جا سکتے ہیں وہاں ڈیموکریسی کی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہاں دروازے کھلے ہیں۔ یہاں پر آپ فون اٹھائیں اور براہ راست کسی شہزادے سے بات کریں وہ آپ کے مسائل سنے گا۔ ہمارا نظام مختلف ہے۔ میرے خیال میں آپ اپنے ملک میں بھی جس وقت چاہیں وزیر سے نہیں مل سکتے۔

یہ سعودی عرب ہے جس کا نام ایک خاندان السعود کے نام پر رکھا گیا ہے۔

بادشاہ عبداللہ کے اقتدار کے لیے ابھی مسئلہ نہیں ہے۔ حال ہی میں صحت یابی کے بعد وطن واپس لوٹنے پر انھوں نے تیئس ارب ڈالر کی رقم تنخواہوں میں اضافے، امدادی رقوم اور تحائف کے لیے مختص کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ گاجر تھی۔ وزارت داخلہ نے ڈنڈا دکھایا اور ایک بیان میں لوگوں کو یاد دہانی کروائی کہ ریاست میں کسی بھی قسم کا مظاہرہ کرنا غیر قانونی ہے اور خبردار کیا کہ کسی بھی ممکنہ بدامنی سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن قدم لیا جائے گا۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان میجر جنرل الترکی نے مجھ سے کہا کہ سکیورٹی فورسز کسی بھی مظاہرہ کو پھیلنے سے پہلے کچلنے کے لیے بہت تیزی سے کارروائی کریں گی۔

انھوں نے کہا کہ گولی چلانے کا کوئی حکم نہیں۔ اور قوت کے استعمال کا بھی کوئی حکم نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کے اہلکار مظاہرین سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ ہیں۔ وہ حج کے دوران اس طرح کے واقعات کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔

بلاگ لکھنے والے ایک شحص فواہد الفرحان نے جو قید میں بھی رہ چکے ہیں مجھ سے کہا کہ مظاہرے اس معاشرے کی روایت نہیں ہے۔ سعودی عرب کی اکثریت نے کبھی مظاہرے نہیں دیکھے۔ یہ ایک رکاوٹ ہے کیا لوگ باہر نکلیں گے یہ ایک بڑا سوال ہے۔

یہ سوال ریاض میں کھانے کی میز پر ایک اور بلاگ لکھنے والے شخص کے ساتھ زیر بحث آیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بھی قید بھگت چکے ہیں اور ان کا جرم یہ تھا کہ انھوں نے فیس بک پر موروثی اقتدار پر بحث کی تھی۔

سعودی عرب میں شہری اور سیاسی آزادیوں کے حقوق کی تنظیم کے کارکن محمد قطینی بھی اس بحث میں شامل ہو گئے۔

انھوں نے کہا کہ سلطنت میں تیس ہزار کے قریب سیاسی قیدی ہیں اور ان میں کچھ کو برسوں بغیر مقدمہ چلائے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑ رہی ہیں۔ حکام کہتے ہیں کہ انھیں سکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر قید میں رکھا گیا ہے۔

لوگ ٹی وی سیٹس سے چپکے ہوئے ہیں اور حالات دیکھے رہے ہیں اور اس طرح ایک تحریک پیدا ہو رہی ہے۔

حکام کو اب اصلاحات کے کچھ اشارے دینے ہوں گے۔ حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں اور جب تک آپ کچھ مطالبات تسلیم کرنے پر تیار ہوتے ہیں بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

لوگ زمین پر بیٹھ کر بدوؤں کی طرح ایک بڑے سے طباق میں سے ہاتھوں سے چاول اور دمبے کا گوشت کھا رہے تھے۔

اس مجلس میں بھی جہاں بہت سے انسانی حقوق کے کارکن جمع تھے کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ وہ کل کے مظاہرے میں شرکت کے لیے نہیں نکلیں گے۔

سعودی عرب میں سیاسی بحث اب بھی لوگ گھروں اور نجی محفلوں میں کرتے ہیں یا پھر وہ نام ظاہر کیے بغیر انٹر نیٹ پر۔ آپ جلوس نہیں نکال سکتے اور سیاسی پارٹیوں کی طرح سڑکوں پر مظاہرے کرنے پر بھی پابندی ہے۔

اس صورت حال میں جمعہ کو چھوٹا سا مظاہرہ بھی حکومت کی پریشانی کے لیے کافی ہو گا۔

حکام اور مظاہرے کے منتظمین دونوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ کیا ہو گا لیکن یہ ضرور ہے کہ مصر، تیونس اور لیبیا جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے۔

.بلاگ لکھنے وال فواد الفرحان نے مجھ سے کہا کہ سعودی عرب دوسرے ملکوں کی طرح نہیں ہے جہاں لوگوں کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے اس لیے یہاں لوگ محتاط ہیں۔ بہت سے سعودی باشندوں کے پاس کچھ ہے جسے وہ کھونا نہیں چاہتے۔

اسی بارے میں