جاپانی بادشاہ ’فکرمند‘، سفری وارننگ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جاپان کے بادشاہ اکی ہیٹو کا کہنا ہے کہ وہ ملک کو درپیش بحران پر’انتہائی فکرمند‘ ہیں اور عوام کے لیے دعاگو ہیں جبکہ جاپان میں زلزلے اور سونامی سے متاثر ہونے والے جوہری بجلی گھر سے تابکاری کے اخراج کی اطلاعات کے بعد متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو جاپان کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ادھر جاپان میں حکام تاحال زلزلے سے متاثرہ جوہری بجلی گھر کے چار ری ایکٹرز کی حدت کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

جاپانی حکام کے مطابق انہیں متاثرہ فوکوشیما جوہری بجلی گھر کے ایک ری ایکٹر کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہیلی کاپٹرز کی مدد سے اس پر پانی گرانے کا منصوبہ ترک کرنا پڑا تھا۔ جاپانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ منصوبہ ترک کیے جانے کی وجہ جوہری بجلی گھر کے اوپر فضا میں تابکاری کی مقدار ہے۔

اس سے قبل تابکاری کے اخراج کی سطح بڑھ جانے کے بعد عملے کے پچاس ارکان کو پلانٹ سے باہر نکال لیا گیا تھا تاہم اب یہ عملہ واپس چلا گیا ہے اور ری ایکٹرز کو ٹھنڈا کرنے کی کوششیں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جاپانی بادشاہ عموماً قوم سے یوں خطاب نہیں کیا کرتے

سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب میں ستتر سالہ بادشاہ کا کہنا تھا ’میں تہہ دل سے امید کرتا ہوں کہ لوگ مل جل کر ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور ان مشکل حالات سے نبرد آزما ہوں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ دعاگو ہیں کہ زلزلے اور سونامی سے متاثرہ ہر فرد کو بچایا جا سکے۔

بدھ کو فوکوشیما ڈائچی میں موجود ری ایکٹر نمبر چار میں دو دن میں دوسری بار آگ بھڑک اٹھی جبکہ ری ایکٹر نمبر تین سے بھی دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ فوکو شیما کے جوہری بجلی گھر میں جہاں بحران کی صورتِ حال ہے، چھ نیوکلیئر ری ایکٹرز ہیں اور اس عمارت میں اب تک کئی بار دھماکے ہو چکے ہیں۔

جاپانی حکومت کے بڑے ترجمان نے بدھ کی صبح ایک پریس کانفرس میں بتایا کہ کا کہنا ہے کہ تابکاری کی سطح میں کمی بیشی کا سلسلہ جاری ہے اور بدھ کو یہ سطح ایک ہزار ملی سائیورٹس سے کم ہو کر چھ سو سے آٹھ سو کے درمیان رہ گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تابکاری کی سطح میں کمی بیشی کا سلسلہ جاری ہے

حکام پہلے ہی فوکوشیما بجلی گھر سے منگل کو عملے کے ساڑھے سات سو ارکان کو نکال چکے ہیں اور اب وہاں صرف پچاس افراد پر مشتمل عملہ ٹوکیو سے دو سو بیس کلومیٹر دور واقع اس بجلی گھر کے چار ری ایکٹرز کو ٹھنڈا رکھنے اور جوہری ایندھن کو پگھلنے سے روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

جاپانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ بدھ کو ری ایکٹر نمبر چار میں آتشزدگی اور ری ایکٹر نمبر تین سے دھوئیں کے اخراج کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ پلانٹ سے بدھ کی صبح جو دھواں نکلتا دکھائی دیا تھا وہ غالباً پانی کے بخارات تھے جو گیس کی شکل اختیار کر گئے۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ’تابکاری سے بچاؤ کے خول کو نقصان پہنچا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس سے بخارات باہر آ رہے ہیں‘۔

انخلاء کا مشورہ

آسٹریلیا نے کہا ہے کہ جاپان میں موجود اس کے وہ تمام شہری جن کا وہاں رہنا لازمی نہیں، ٹوکیو اور زلزلے اور سونامی سے متاثرہ علاقے سے نکل جائیں۔ فرانس نے بھی ٹوکیو میں قیام پذیر اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ یا تو وہ ملک چھوڑ دیں یا جاپان کے جنوبی علاقوں کی جانب چلے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ 1
Image caption ٹوکیو میں تابکاری کی سطح میں معمولی اضافہ ہواہے

فرانسیسی حکومت نے ائر فرانس سے کہا ہے کہ وہ شہریوں کو جاپان سے نکالنے کے لیے طیارے فراہم کرے۔ فرانسیسی شہریوں کے انخلاء کا عمل جمعرات سے شروع ہوگا۔

متاثرین کی امداد

دریں اثناء تقریباً پانچ لاکھ زلزلہ اور سونامی متاثرین کے لیے عارضی پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں جہاں سے پانی، ایندھن، خوراک اور کمبلوں کی کمی کی اطلاعات ملی ہیں۔ان متاثرین کو شدید سرد موسم اور برفباری کا سامنا ہے۔ متاثرہ علاقے تک زمینی رسائی کے راستے کھل چکے ہیں جبکہ فوج امدادی سامان کی فراہمی کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کر رہی ہے۔

شمالی جاپان میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ متاثرین کو ان گھروں، سکولوں اور بڑے ہالوں میں ٹھہرایا گیا ہے جو تباہی کا نشانہ بننے سے بچ گئے تھے۔خیال کیا جارہا ہے کہ جمعہ کے زلزلے اور سونامی سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ ہزاروں ابھی تک لاپتہ ہیں۔ جاپان کو اب تک نوے ممالک امداد کی پیشکش کر چکے ہیں۔

جاپان میں اب تک آفٹر شاکس آ رہے ہیں اور بدھ کو بھی دارالحکومت ٹوکیو کے جنوب مغرب میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت ریکٹر سکیل پر چھ تھی۔

اسی بارے میں