فوکوشیما جوہری پلانٹ تک بجلی پہنچ گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اقوام متحدہ کی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے مطابق انجنئیر جاپان کے فوکو شیما جوہری پلانٹ تک بجلی کی تاریں بچھانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس سے ری ایکٹر کو ٹھنڈا کرنے کے نظام کو دوبارہ چلایا جا سکے گا۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ جمعہ کے روز آنے والے شدید زلزلے اور سونامی سے متاثر ہونے والے نیوکلیئر پلانٹ سے تابکاری مادہ کے خارج ہونے کے خطرات پر قابو پانے کی کوششوں میں اہم پیش رفت ہے۔

زلزلے اور سونامی کے بعد فوکوشیما پلانٹ میں بجلی کا نظام درہم برھم ہوگیا تھا جس کی وجہ سے کولنگ پلانٹ چلنے بند ہوگئے تھے جس سے خطرہ پیدا ہوا کہ جوہری ری ایکٹر کا درجہ حرارت بڑھنے سے تابکاری مادہ خارج ہو سکتا ہے۔

ادھر جاپان نے جوہری پلانٹ کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کےلیے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اس کے اوپر پانی پھینک رہے ہیں۔

ائی اے ای اے کے مطابق بجلی کی تاریں پہنچ گئی ہیں لیکن ابھی انہیں جوڑا نہیں کیا گیا ہے۔ جوہری ری ایکٹر کو چلانے کی ذمہ دار کمپنی ٹیپکو نے کہا ہے کہ بجلی کے نظام کو بحال کرنے میں پندرہ گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

حکومت نے زلزلے اور سونامی میں 5500 افراد ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اب بھی 9500 افراد لاپتہ ہیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

شدید سرد موسم اور برفباری سے لوگوں کو امداد فراہم کرنے کے کام میں رکاوٹ پڑ رہی ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے جاپان سے ہزاروں امریکی شہریوں اور فوجیوں اور ان کے کنبوں کو واپس لانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جو ہنشو کے جزیرے پر رہتے ہیں جہاں امریکہ کے کئی فوجی اور بحری اڈے ہیں۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو کمرشل اور چارٹر فلائٹس پر لیجایا جائے گا۔

فرانس بھی اپنے شہریوں کو جاپان سے نکالنے کی تیاری کر رہا ہے۔

اسی بارے میں