فوکوشیما:’زیادہ کامیابی نہیں ہو سکی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فوکوشیما پلانٹ میں زلزلے کے بعد سے کئی دھماکے ہو چکے ہیں

جاپان میں زلزلے اور سونامی سے متاثر ہونے والے جوہری بجلی گھر کے ری ایکٹرز کو بجلی کی فراہمی اور انہیں ٹھنڈا رکھنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن اس کام میں مصروف عملے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں زیادہ پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی جوہری ادارے آئی اے ای اے نے کہا تھا کہ انجینئر جوہری پلانٹ تک بجلی کی تاریں بچھانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس سے ری ایکٹر کو ٹھنڈا کرنے کے نظام کو دوبارہ چلایا جا سکے گا۔

بجلی کی فراہمی ان پمپس کو چلانے کے لیے درکار ہے جن کی مدد سے پانی کو حد سے زیادہ گرم ہو رہے فیول راڈز پر ڈالا جانا ہے تاکہ تابکاری کے اخراج سے بچا جا سکے۔

فوکوشیما پلانٹ میں جمعہ کو آنے والے زلزلے کے بعد سے کئی دھماکے ہو چکے ہیں۔

جاپانی پولیس کے مطابق اس زلزلے اور سونامی سے اب تک چھ ہزار چار سو پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دس ہزار دو سو لاپتہ ہیں۔ تاہم جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو کا کہنا ہے کہ یہ تعداد تو ان لوگوں کی ہے جن کے ناموں کا اندارج پولیس کے پاس ہے اور اصل تعداد دسیوں ہزاروں میں ہے۔

اس قدرتی آفت سے لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں اور شدید سرد موسم اور برفباری سے لوگوں کو امداد کی فراہمی میں رکاوٹ پڑ رہی ہے۔

جوہری بحران

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زلزلے اور سونامی سے اب تک6405 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے

فوکوشیما جوہری پلانٹ میں بحران اس وقت شروع ہوا تھا جب زلزلے کے نتیجے میں بجلی گھر کو بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی تھی اور متبادل جنریٹرز نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ بجلی کا نظام درہم برھم ہونے سے کولنگ پلانٹ بند ہوگئے تھے اور یہ خطرہ پیدا ہوا تھا کہ جوہری ری ایکٹر کا درجہ حرارت بڑھنے سے تابکاری خارج ہو سکتی ہے۔

جمعہ کی صبح بھی اس بجلی گھر سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا تھا لیکن یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ کیا تھی۔ جاپان کے چیف کیبنٹ سیکرٹری یوکیو ایدانو نے کہا تھا یہ دھواں ہیلی کاپٹرز کی جانب سے گرم آلات پر پھینکے جانے والے پانی کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا۔

آئی اے ای اے کے مطابق بجلی کی تاریں بجلی گھر تک پہنچ گئی ہیں لیکن ابھی انہیں جوڑا نہیں گیا ہے۔ جوہری ری ایکٹر کو چلانے کی ذمہ دار کمپنی ٹیپکو نے کہا ہے کہ بجلی کے نظام کو بحال کرنے میں پندرہ گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

لیکن انجینئرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجلی کی بحالی کے باوجود اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ پمپ کام کریں گے کیونکہ وہ زلزلے اور بعد مٹیں ہونے والے دھماکوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ’تیاری اتنی تیزی سے نہیں ہو رہی جس کی امید تھی‘۔

انہوں نے کہا کہ امدادی کام کرنے والوں پر تابکاری کے اثرات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے جاپان سے ہزاروں امریکی شہریوں اور فوجیوں اور ان کے کنبوں کو واپس لانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جو ہنشو کے جزیرے پر رہتے ہیں جہاں امریکہ کے کئی فوجی اور بحری اڈے ہیں۔واشنگٹن کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو کمرشل اور چارٹر فلائٹس پر لیجایا جائے گا۔

فرانس بھی اپنے شہریوں کو جاپان سے نکالنے کی تیاری کر رہا ہے۔

اسی بارے میں