لیبیا: اہداف اور خطرات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters (audio)
Image caption بحرہ روم میں موجود امریکی بحری جنگی جہازوں اور آبدوزوں سے سمندر سے زمین پر مار کرنے والے کروز میزائیل داغے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر انیس سو تہتر کے نفاذ کے لیے لیبیا پر فرانسیسی طیاروں کی بمباری کے ساتھ یہ آپریشن ایک جانے پہچانے طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔

ابتدائی طور پر اس آپریشن کا مقصد لیبیا کے فضائی دفاع کے نظام کو کمزور اور تباہ کرنا تھا جو زیادہ تر ملک کے مغربی حصے میں دارالحکومت طرابلس کے اردگرد واقع ہے۔

بحرہ روم میں موجود امریکی بحری جنگی جہازوں اور آبدوزوں سے سمندر سے زمین پر مار کرنے والے کروز میزائیل داغے گئے ہیں۔

برطانوی ٹرافیلگر کلاس آبدوز اور ائر فورس کے ٹارنیڈو جی آر فور طیارے بھی اس آپریشن میں شامل ہیں۔

امریکہ کے بی ٹو سٹیلتھ بمبار طیارے بھی استعمال ہوئے ہیں جن کے ذریعے لیبیا کی ائر فیلڈ پر چالیس بم گرائے گئے۔

ان سب کارروائیوں نے لیبیا پر نو فلائی زون کے قیام کے لیے حالات کو تیار کر دیا ہے۔

واشنگٹن میں امریکی فوج کے کمانڈر ایڈمرل مائک مولن نے اعلان کیا ہے کہ نو فلائی زون قائم کر دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود شاید ابھی بھی مزید کچھ کام باقی ہے۔

لیبیا کے فضائی دفاع کے نظام کو ختم کرنے سے اتحادی افواج کو اپنے دوسرے اہداف کو مکمل کرنے کی آزادی بھی ملتی ہے کیونکہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد میں سب سے پہلے جس ہدف کو حاصل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ عام شہریوں کو لیبیا کی سرکاری فورسز سے بچانا ہے۔

کرنل قذافی کی جانب سے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کے بعد ان کی فوج جن میں سب سے اہم اس کے ٹینک اور توپیں ہیں اب بظاہر اتحادی افواج کی توجہ کا مرکز ہیں۔

کرنل قذافی کی کوشش ہو گی کہ وہ اپنی فوج کو اس کے تمام تر ساز و سامان کے ساتھ جتنی جلدی ممکن ہو سکے باغیوں کے علاقوں میں منتقل کر دیں تا کہ اتحادی افواج کے لیے انہیں نشانہ بنانا مشکل ہو جائے۔ یہ صورتحال اتحادی افواج کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے کیونکہ ان کی کوشش ہے کہ ان کے حملوں میں عام شہری ہلاک نہ ہوں۔

ہمیں یہ معلوم ہے کہ یہ آپریشن کیسے شروع کیا گیا اور اس بات کا بھی پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ اگلے چند دنوں میں یہ کیسے آگے بڑھے گا لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ آپریشن ختم کیسے ہو گا۔

اس کے علاوہ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ اتحادی افواج کس حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اس جنگ کے لیے اصول و ضوابط احتیاط سے مرتب دیں گے لیکن یہ سوال سیاسی ہے نا کہ فوجی۔

اتحادی افواج کے آپریشن کا ایک ممکنہ نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ قذافی کی فورسز کو شکست ہو جائے اور وہ باغیوں کے قبصے والے علاقوں سے چلی جائیں اور پھر ایک پریشان کن تعطل پیدا ہو جائے۔

اتحادی افواج کی فضائی طاقت کے سامنے قذافی اس قابل نہیں ہونگے کہ وہ جارحانہ کارروائیاں کر سکیں۔ دوسری جانب باغیوں کے پاس بھی یہ صلاحیت نہیں ہو گی کہ وہ ملک کے مغربی حصے میں کرنل قذافی کے کنٹرول کو چیلنج کر سکیں۔

یہ نتیجہ واشنگٹن، لندن اور پیرس کے لیے پسندیدہ نہیں ہو گا۔ ان تینوں دارالحکومتوں کے رہنما کرنل قذافی کی رخصتی پر اصرار کرتے رہیں ہیں۔

جیسا کہ فرانس کے صدر نیکولا سرکوزی نے کہا ’لیبیا کہ عوام کے پاس اپنی منزل کے انتخاب کا حق ہونا چاہیے‘۔