کئی سوالات لیکن جواب فی الحال نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پچھلے ہفتے لیبیا میں فوجی کارروائی کی اجازت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کر کے دی تھی لیکن اب تک اس کے اصل مقصد پر ابہام پایا جاتا ہے.

کیا اس کا مقصد لیبیا کے عوام کو کرنل قذافی کی فوج سے تحفّظ پہنچانا ہے، یا تیل کی سپلائی کو جاری رکھنا ہے یا پھر کرنل معمر قذافی کو قیادت سے سبکدوش کرنا ہے؟

واشنگٹن میں انہیں سوالوں پر آج کل بحث جاری ہے۔ بحث کا دوسرا اہم سوال یہ ہے کے امریکہ کو لیبیا میں فوجی کارروائی سے کیا فائدہ ہوگا؟ اور تیسرا اہم سوال یہ ہے کہ اتحادی ملکوں کی فوجوں کی قیادت کون کرےگا؟

عرب ممالک کے امور کے تجزیہ نگار اینتھنی کونڈرزمین کا کہنا ہےکہ سلامتی کونسل کی قرارداد منظور تو ہو گئی لیکن اس میں کافی ابہام ہے. ’نو فلائی زون کے نفاذ کے پہلے ہی دن فرانس کے جنگی طیّاروں نے قذافی کی زمینی فوج پر حملے کیے۔ لیکن قرارداد کا مقصد ظاہری طور پر قذافی کی فضائی فوج کو عوام کے خلاف حملوں سے روکنا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ قذافی کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ لینے والے اتحادی ملکوں کے مقاصد میں تضاد ہے۔ ’فرانس چاہتا ہے کے کرنل قذافی کو ہٹانا اصل مقصد ہونا چاہیے جب کے برطانیہ کا کہنا ہے کہ لیبیا کے رہنما کو اقتدار سے ہٹانا اتحادی فوجوں کا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔‘

دوسری جانب امریکہ میں افغانستان اور عراق کے بعد مزید ایک اور جنگ میں شامل ہونے کی نہ تو خواہش ہے اور نہ ہی حوصلہ۔ اسی لیے صدر براک اوباما نے لیبیا کے باغی فوجیوں کی مدد کی پکار پر لبّیک کہنے کے بجائے سلامتی کونسل کی قرارداد کا انتظار کیا۔ اگرچہ امریکہ لیبیا پر حملوں میں اتحادی فوجوں کی قیادت کر رہا ہے تاہم اس نے اب تک اس میں پوری قوّت کے ساتھ حصّہ نہیں لیا ہے۔ یہاں تک کی امریکی صدر نے پیر کو یہ اعلان بھی کر دیا کہ ’اتحادی فوجوں کی قیادت امریکہ کچھ ہفتوں میں نہیں بلکہ کچھ دنوں میں کسی اور ملک کو منتقل کر دے گا‘۔

لیکن اس اعلان کے باوجود ماہرین کے خیال میں امریکہ اتحادی ملکوں کی قیادت پوری طرح سے کھونا نہیں چاہتا۔ اور شائد اسی لیے یہ کمانڈ نیٹو کو منتقل کرنے کے موڈ میں نظر آتا ہے۔ جس کا مطلب قیادت امریکہ کے پاس ہی رہے گی لیکن کسی گڑ بڑ کی صورت میں ذمہ داری نیٹو کی ہو گی۔

ادھر فرانس اور ترکی دونوں اتحادی قیادت کے لئے مچل رہے ہیں لیکن اتحادی ملکوں کے کچھ ارکان ان دونوں ممالک کے خلاف نظر آتے ہیں۔

امریکی صدر پر ملک کے اندر لیبیا میں پوری طرح سے ملوث نہ ہونے کا زبردست دباؤ ہے۔

امریکی کانگریس کے ایک رکن اور صدر کی ہی ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک رہنما ڈینس کوسینچ کہتے ہیں کہ لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی غلط ہے۔ ان کے خیال میں امریکہ کا اس میں شامل ہونا اور بھی غلط ہے۔ انھیں ناراضگی اس بات پر ہے کے صدر اوباما نے کانگریس سے اس جنگ میں شامل ہونے کی اجازت نہیں لی اور ایسا کرنے پر صدر اوباما کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

کچھ امریکی ماہرین کے مطابق لیبیا پر حملوں پر اربوں ڈالر کا خرچ آئےگا جسے امریکہ ادا نہیں کر سکتا کیونکہ امریکی معیشت کافی کمزور ہے۔

اس بات پر بھی واشنگٹن کو فکر لاحق ہے کے قذافی کے ہٹائے جانے کے بعد اقتدار پر کون آئےگا اور قذافی مخالف طاقتوں میں انتشار کو کون کم کرے گا؟ کونسا ملک لیبیا کی از سرِ نو تعمیر میں حصّہ لے گا؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں جن کا فی الحال کسی کے پاس جواب نہیں۔

اسی بارے میں