جاپان زلزلے کے بعد سونامی الرٹ

فوکوشیما جوہری پلانٹ تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption فوکوشیما جوہری پلانٹ کے ری ایکٹر نمبر 1 کا کنٹرول روم

جاپان کے شمال مشرقی ساحل کے نزدیک ایک اور زلزلہ محسوس کیا گیا ہے جس نے اس پہلے سے آفت زدہ علاقے کو دوبارہ ہلا کے رکھ دیا ہے۔

زلزلے کی شدت 6.5 بتائی جاتی ہے اور یہ بری طرح تباہ ہونے والے شہر سینڈائی کے مشرق میں 109 کلومیٹر دور آیا ہے۔ جیسے ہی زلزلہ آیا اسی وقت ایک ممکنہ چھوٹی سونامی کی وارننگ بھی دے دی گئی۔

گیارہ مارچ کو ایک زبردست زلزلے اور اس کے بعد آنے والی طاقتور سونامی سے دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ہزاروں ابھی تک لاپتہ ہیں۔

دوسری طرف جاپان کے فوکوشیما جوہری پلانٹ میں ابھی بھی کارکن بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح اس سے خارج ہونے والی تابکاری کو روکا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گیارہ مارچ کو سینڈائی شہر کے ساحلی علاقے بری طرح تباہ ہو گئے تھے

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق تازہ ترین زلزلے سے ہونے والے نقصان کے متعلق ابھی کوئی اطلاع نہیں آئی ہے۔ یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجکر تیئس منٹ پر آیا۔

اسی دوران جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی نے خبردار کیا کہ اٹھارہ انچ اونچی سونامی آ سکتی ہے لیکن بعد میں اس الرٹ کو واپس لے لیا گیا۔

اتوار کو فوکوشیما ڈائچی جوہری پلانٹ کے آپریٹرز نے اپنی اس غلطی پر معافی مانگی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سائٹ کے ایک ری ایکٹر میں تابکاری کی سطح نارمل سے دس ملین زیادہ ہے۔

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پانی آلودہ ہے مگر لیول اتنا زیادہ نہیں ہے جتنا بتایا گیا تھا۔

ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی کے ترجمان تاکاشی کریتا نے کہا کہ یہ نمبر قابلِ اعتبار نہیں ہے۔ ہمیں اس (غلطی) کا بہت افسوس ہے۔

تابکاری کا لیول اتنا زیادہ تھا کہ آلودہ پانی کے نزدیک کام کرنے والے کارکنوں کو ایک گھنٹے میں ہی پورے سال کی تابکاری کی مقدار سے چار گنا زیادہ مقدار مل جاتی۔

اتوار کو ٹوکیو میں جوہری استعمال کے مخالفین نے ایک بڑی ریلی نکالی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جاپان کی جوہری صنعت کو تبدیل کرنا چاہیئے۔

اسی بارے میں