مصراتہ کے زخمی بن غازی میں

مصراتہ تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption مصراتہ میں زیادہ تر پانی اور بجلی بند ہے

لیبیا میں ایک ترک بحری جہاز مصراتہ سے تقریباً دو سو سے زیادہ زخمیوں کو لے کر بن غازی پہنچ گیا ہے۔ بن غازی ملک کے مشرقی حصے میں واقع ہے اور اس پر باغیوں کا کنٹرول ہے۔

مصراتہ لیبیا کے مغربی حصے کا واحد شہر ہے جو باغیوں کے قبضے میں ہے لیکن یہ شہر کرنل قذافی کی فوج کے گھیرے میں ہے۔

ترک بحری جہاز پر موجود ڈاکٹروں نے بتایا کہ مصراتۃ میں طبی سہولتیں ناکافی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بہتر سے مریضوں کی حالت خطرناک ہے۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان مریضوں کو ترکی لے جایا جائے گا۔ مریضوں نے بھی مصراتہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کا زیادہ تر حصہ بغیر بجلی اور پانی کے ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں کوئی بھی گولہ باری اور نشانہ بازوں سے محفوظ نہیں ہے۔

دریں اثناء لیبیا کے مشرقی شہر البریقۃ میں کرنل قذافی کے حامی فوجیوں اور باغیوں میں بھی لڑائی ہوئی۔ لیبیا کے یورپی امور کے لیے نائب وزیر خارجہ کرنل قذافی کا پیغام لے کر یونان گئے ہیں۔

لیبیا میں فروری میں کرنل قذافی کے اقتدار کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا جو اب مسلح جنگ کی صورت اختیار کر چکا ہےگا۔ فروری کے بعد سے لیبیا میں کئی ہزار لوگ ہلاک اور اس سے بھی زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

لیبیا کے اہم ساحلی شہروں میں سے مغرب میں واقع شہر کرنل قذافی کے کنٹرول میں ہیں جبکہ باغیوں کا بن غازی سمیت ملک کے مشرقی شہروں پر کنٹرول ہے۔

اسی بارے میں