آئی ایس آئی امریکہ کی نظر میں دہشت گرد

برطانوی اخبار گارڈین کو ملنے والی امریکی خفیہ دستاویزات کے مطابق امریکی حکام پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو ایک دہشت گرد تنظیم تصور کرتے ہیں۔

ان دستاویزات کے مطابق گوانتانامو بے میں تفتیش کاروں کو جو ہدایات دی گئیں ان میں آئی ایس آئی کو القاعدہ، حماس اور حزب اللہ کے ساتھ ایک خطرے کے طور پر بتایا گیا اور کہا گیا کہ کسی بھی شخص کا اگر ان گروپوں کے ساتھ کوئی تعلق نکلتاہو تو اسے دہشت گرد یا مزاحمت کار کے طور پر دیکھا جائے۔

پاکستانی فوج کے دفتر تعلقات عامہ کے سربراہ اطہر عباس نے برطانوی اخبار گارڈین اور نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

امریکی دفتر خارجہ نے ان خبروں کی اشاعت کی مذمت کی لیکن خبروں کی سچائی یا ان کے غلط ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔

سن دو ہزار سات کی ان خفیہ دستاویزات کے مطابق ’ ان تنظیموں کے ساتھ تعلق کے ذریعے خلیج گوانتانامو کے کسی قیدی نے ممکن ہے کہ القاعدہ یا طالبان کو مدد فراہم کی ہو یا وہ خود افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہا ہو‘۔

دستاویزات کے مطابق آئی ایس آئی سمیت ان تنظیموں سے کسی بھی شخص کا تعلق اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ شخص مستقبل میں امریکہ کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔

ان امریکی دستاویزات میں آئی ایس آئی کو ان چھتیس گروپوں میں شامل کیا گیا ہے جن میں مصر کی اسلامک جہاد، جس کی قیادت القاعدہ کے نائب سربراہ ایمن الزواہری کرتے ہیں، چیچنیا کی سبوتاژ بٹالین، ایرانی انٹیلیجنس ادارے اور اخوان المسلیمون جیسی تنظیمیں شامل ہیں۔

اخبار کے مطابق اگرچہ یہ فہرست دو ہزار سات کی ہے لیکن اس بات کا امکان کم ہے کہ اب آئی ایس آئی کا نام اس فہرست سے نکال دیا گیا ہو۔

ان خفیہ امریکی دستاویزات میں جن میں خلیج گوانتانامو کے سات سو قیدیوں کے پس منظر کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے بظاہر انٹیلینجس رپورٹوں سے معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر متعدد بار آئی ایس آئی کا ذکر ہے کہ یہ ادارہ افغانستان میں اتحادی افواج کے خلاف مزاحمت کاروں کو مدد اور تحافظ فراہم کر رہا ہے اور یہاں تک کہ القاعدہ کے ساتھ بھی تعاون کر رہا ہے۔

گارڈین لکھتا ہے کہ دستاویزات میں آئی ایس آئی کی مزاحمت کاروں کو مبینہ حمایت کی تفضیل امریکہ کے اعلیٰ سطح کے فیصلہ سازوں کی آئی ایس آئی کے بارے میں سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔

کئی دستاویزات میں دو ہزار دو اور تین میں آئی ایس آئی کی مبینہ کارروائیوں کا ذکر ہے جو کہ دو ہزار سات میں بش انتظامیہ کی پالیسی میں تبدیلی سے کافی عرصے پہلے کا زمانہ ہے۔ دو ہزار سات میں بش انتظامیہ نے پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر نکتہ چینی شروع کر دی تھی۔

دستاویزات میں خلیج گوانتانامو کے قید خانے کے حکام کی جانب سے ایک بڑے شدت پسند ہارون الافغانی کو رہا نہ کرنے کی کئی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بتائی گئی جو آئی ایس آئی کے شدت پسندوں کے ساتھ روابط کی ایک مثال ہے۔ ہارون الافغانی کی فائل میں لکھا ہے کہ اس نے اگست دو ہزار چھ میں ایک میٹنگ میں شرکت کی جس میں پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس حکام، طالبان، القاعدہ، لشکر طیبہ اور گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی کے سرکردہ رہنما شریک تھے۔

گارڈین لکھتا ہے کہ اس بات کے افشا ہونے سے کہ امریکہ آئی ایس آئی کو القاعدہ اور طالبان کے برابر خطرہ سمجھتا ہے پاکستان میں شدید ردعمل ہوگا اور اس سے دونوں ممالک کے انٹیلیجنس اداروں کے درمیان پہلے سے خراب تعلقات مزید بگڑ جائیں گے۔

گزشتہ برس نومبر میں بھی گارڈین نے ایسا شہادتی مواد شائع کیا تھا جس کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو ایسی رپورٹیں مل رہی ہیں کہ آئی ایس آئی کئی برسوں سے افغانستان میں طالبان کی مدد کر رہی ہے۔