آخری وقت اشاعت:  اتوار 22 مئ 2011 ,‭ 11:16 GMT 16:16 PST

’پاکستان میں یکطرفہ کارروائی سے گریز نہیں کیا جائےگا‘

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اگر پاکستان میں کسی اور القاعدہ یا طالبان لیڈر کی موجودگی کا پتہ چلا تو وہ اسامہ بن لادن کے خلاف کیے گئے آپریشن کی طرز پر ایک اور یکطرفہ آپریشن کا حکم دیں گے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہو گی کہ ایسے کسی بھی آپریشن میں پاکستان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ ادھر پاکستان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اسے امریکہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں ایسی کوئی بھی کارروائی یکطرفہ نہیں ہوگی۔

دوبارہ کارروائی سے گریز نہیں

یورپ کے دورے پر روانہ ہونے سے پہلے صدر اوباما نے بی بی سی کے اینڈریو مار کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ہمارا مقصد امریکہ کو ہر حال میں محفوظ بنانا ہے اور امریکہ دہشتگردی کے کسی منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

کلِک امریکہ نے یقین دہانی تو کروائی ہے: پاکستان

صدر اوباما سے جب پوچھا گیا کہ اگر انہیں پاکستان یا کسی اور خود مختار ملک میں القاعدہ کے اہم رہمنا یا طالبان رہنما ملا عمر کی موجودگی کی اطلاع ملتی ہے تو وہ کیا کریں گے، تو امریکی صدر نے کہا ’میں نے پاکستانیوں پر ہمیشہ یہ واضح کیا ہے اور ہم وہ پہلی امریکی انتظامیہ نہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا کام امریکہ کو محفوظ بنانا ہے‘۔

انہوں نے کہا ’ہم پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن ہم کسی کو اپنے یا اپنے اتحادیوں کے شہریوں کو ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی کرنے یا ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی اجازت نہیں دے سکتے‘۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

دو مئی کو ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور پاکستان میں امریکہ کی یکطرفہ کارروائی کے خلاف بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا وہ اب اس بارے میں واضح طور پر جانتے ہیں کہ کس حد تک پاکستانی حکام اور دیگر افراد کو بن لادن کی وہاں موجودگی کا علم تھا، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم نہیں جانتے۔ جو ہم جانتے ہیں وہ یہ کہ اسے وہاں اندازاً پانچ سے چھ سال رہنے کے لیے کسی قسم کی بیرونی مدد درکار تھی۔ چاہے وہ غیر حکومتی ہو یا حکومتی، کوئی بڑا نیٹ ورک یا چند افراد اس سب کی تحقیقات ہم کر رہے ہیں لیکن ہم پاکستان سے بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ تحقیقات کرے‘۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی سمت متعین کرنے کے لیے سلسلے میں رابطے کیے جا رہے ہیں۔’ ہم اس سلسلے میں ان سے رابطے میں ہیں کہ آگے کیسے بڑھا جائے۔نہ صرف ان تحقیقات میں کہ ایبٹ آباد میں کیا ہوا بلکہ اپنے تعلقات کو اس مضبوط سطح پر لے جانے میں بھی جہاں دہشتگردی کا وہ خطرہ ختم ہونے لگے جس کا ہدف جتنا پاکستان ہے اتنا ہی ہم پر بھی ہے۔ اور اس کے لیے تعاون اور اعتماد کی بحالی کی ضرورت ہوگی‘۔

انہوں نے پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کا ایک اہم اتحادی قرار دیا۔ ’وہ مغرب کو درپیش دہشتگردی کے خطرے کے معاملے میں عموماً ہمارے اہم اور سنجیدہ ساتھی رہے ہیں۔ ہم نے پاکستانی سرزمین پر کسی بھی اور علاقے سے زیادہ دہشتگرد مارے ہیں اور یہ ان کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھا۔ لیکن ابھی مزید کام باقی ہے۔ اور مجھے امید ہے کہ آنے والے مہینوں کے لیے یہ آغاز ہے جب ہم ایک زیادہ کارگر اور تعاون پر مبنی تعلقات دیکھنا شروع کریں گے‘۔

بھارت کا ہوّا

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں بھارت کو اپنے لیے ایک خطرہ سمجھنا پاکستان کی غلطی ہے۔ بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ’پاکستان پر بھارت کا ہوّا سوار ہے‘۔

پاکستان پر بھارت کا ہوّا سوار ہے۔وہ اسے اپنی بقاء کو لاحق خطرہ سمجھتے ہیں اور میرے خیال میں یہ ایک غلطی ہے۔ یہ ان کی سوچ ہے اور یہ سوچ لمبے عرصے سے موجود ہے۔ اس لیے وہ افغانستان اور فاٹا کے معاملات کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ اس کا ان کے بھارت سے مقابلے پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

امریکی صدر

انہوں نے کہا کہ ’وہ اسے اپنی بقاء کو لاحق خطرہ سمجھتے ہیں اور میرے خیال میں یہ ایک غلطی ہے‘۔

امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں بھارت کو خطرہ تصور کرنے کی سوچ نئی نہیں اور پاکستانی حکام ہر معاملے کا تقابلی جائزہ اس حوالے سے لیتے ہیں کہ بھارت سے ان کے تعلقات پر اس کے اثرات کیا ہوں گے۔

’یہ ان کی سوچ ہے اور یہ سوچ لمبے عرصے سے موجود ہے۔ اس لیے وہ افغانستان اور فاٹا کے معاملات کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ اس کا ان کے بھارت سے مقابلے پر کیا اثر پڑ سکتا ہے‘۔

براک اوباما نے کہا ان کے نزدیک پاکستان اور بھارت کے درمیان امن پاکستان کے مفاد میں ہے اور ’اس سے انہیں تجارت کرنے کے لیے وسائل اور قابلیت مل سکے گی اور وہ کہیں آگے جا سکتے ہیں جیسا کہ آپ بھارت کو کرتا دیکھ رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی’تھانوں اور لوگوں کے ہجوم کو دھماکوں سے اڑا دینے اور منتخب نمائندوں کو قتل کرنے کو تیار ان نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے تو انہیں ملک میں عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔

طالبان سے بات چیت

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اس خیال سے متفق ہیں افغانستان کے مسئلے کو عسکری طور پر حل نہیں کیا جا سکتا اور امریکہ جو آخرِ کار طالبان کو بات چیت کے عمل میں شریک کرنا ہوگا۔

بی بی سی کے اینڈریو مار سے خصوصی گفتگو میں براک اوباما نے کہا کہ ’اگرچہ ہم کسی سنجیدہ مفاہمت کے لیے ضروری شرائط کے حوالے سے بالکل واضح ہیں لیکن حتمی طور پر اس کا مطلب طالبان سے بات چیت بھی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان سے بات چیت کے عمل میں نچلے درجے کے طالبان کمانڈرز سے رابطے ممکن ہیں اور طالبان کی اعلٰی قیادت سے بات چیت کا معاملہ آسان نہیں ہے۔

’نچلے درجوں پر دوبارہ میل جول میں آخرِکار متعدد طالبان کمانڈرز شامل ہوں گے جو کہ آ کر کہیں گے کہ ہم ہتھیار پھینکنے اور سیاسی عمل میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ اعلٰی سطح پر یہ معاملہ واضح طور پر زیادہ پیچیدہ ہے‘۔

نچلے درجوں پر دوبارہ میل جول میں آخرِکار متعدد طالبان کمانڈرز شامل ہوں گے جو کہ آ کر کہیں گے کہ ہم ہتھیار پھینکنے اور سیاسی عمل میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ اعلٰی سطح پر یہ معاملہ واضح طور پر زیادہ پیچیدہ ہے۔

براک اوباما

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مفاہمتی بات چیت سے قبل ’طالبان کو القاعدہ سے اپنے تمام روابط ختم کرنا ہوں گے، تشدد ترک کرنا ہوگا اور انہیں افغان آئین کا احترام کرنا ہوگا‘۔

انہوں نے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں سیاسی سمجھوتے کے لیے جو عسکری لحاظ سے کی گئی کوششوں کا استعمال کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوششیں’یقینی بناتی ہیں کہ افغانستان کے آئین پر عمل کیا جائے، کہ انتخابات آزادانہ و مصنفانہ ہوں، یہ کہ حقوقِ انسانی بشمول خواتین کے حقوق کا احترام کیا جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان کوششوں کے بہترین نتائج کی توقع نہیں کر رہے۔’ہمیں بہترین نتائج نہیں ملیں گے لیکن میرے خیال میں اس منتقلی کے دوران جس پر ہم متفق ہیں ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ سکتے ہیں جہاں سیاسی مفاہمت ان شرائط پر ممکن ہو سکے گی جو ہماری روایات اور اس سوچ سے مطابقت رکھتی ہوں گی جس کی وجہ سے ہم وہاں گئے تھے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں بڑا مقصد یہی ہے کہ سیاسی سمجھوتہ ہو اور ہم سیاسی مصالحت کے حامی ہیں‘۔’

’ہم یہ نہیں سوچتے کہ افغانستان اچانک سوئٹزر لینڈ بن جائے لیکن ہماری یہ خواہش ضرور ہے کہ کسی معیار کے تحت کوئی سیاسی سمجھوتہ ہو تا کہ اولاً ہمارے سٹریٹیجک نقطۃ نظر سے افغانستان دوبارہ دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے اور دوسرا یہ کہ افغانستان میں اداروں کی ترقی اور حقوقِ انسانی کے احترام کے سلسلے میں جو ترقی ہوئی ہے اس کا تحفظ ہو سکے‘۔

فلسطینی ریاست اسرائیلی مرضی سے مشروط

براک اوباما نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطٰی میں کسی بھی قسم کا امن اسرائیل اور فلسطین کو دو ریاستوں کی شکل دیے بغیر ممکن نہیں۔

بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم وہی کہہ رہے ہیں جو اسرائیل فلسطین تنازعے کی تاریخ پر نظر رکھنے والے واضح طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ جو کہ یہ ہے کہ اگر آپ کسی قسم کا امن چاہتے ہیں تو اس کے لیے دو ریاستیں ضروری ہیں‘۔

امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ خطے میں امن کے لیے اسرائیل کو یہ اعتماد دیا جانا بہت ضروری ہے کہ اس کی سرحدیں محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ اتنی ہی اہم بات ہے کہ اسرائیل کو غربِ اردن میں اپنی سکیورٹی کے حوالے سے اعتماد دیا جانا چاہیے اور سکیورٹی کا یہ معاملہ اسرائیلیوں کے لیے اہم ہوگا‘۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’وہ اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے جب تک انہیں یہ نہیں لگے گا کہ وہ اپنے علاقے کا دفاع کر سکتے ہیں، خصوصاً جو کچھ انہوں نے غزہ میں دیکھا ہے اور حزبِ اللہ کی جانب سے راکٹ پھینکے جانے کے بعد‘۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ صرف دو ریاستیں بنا دینے سے ہی تمام مسائل حل نہیں ہو جائیں گے۔ ’ہمارا موقف یہ ہے علاقے اور سکیورٹی پر بات چیت شروع کی جائے۔اس سے تمام مسائل حل نہیں ہوں گے۔ آخر میں آپ کے سامنے یروشلم اور پناہ گزینوں کا معاملہ آ سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم دو ریاستوں کے خدوخال پر کام کریں اور فریقین حقیقت کا سامنا کریں کہ اس کا حل ایسے ہی ہے تو ان کے لیے دیگر دو معاملات کے حل کے لیے مشکل رعایتیں دینا آسان ہو جائے گا‘۔

اس سوال پر کہ کیا امریکہ حماس اور فتح کی جانب سے اس موسمِ خزاں میں اقوامِ متحدہ سے فلسطینی ریاست کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیے جانے کے مطالبے کی حمایت کریں گے یا اسے ویٹو کر دیں گے، براک اوباما کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ دو وجوہات کی بنا پر مسئلہ ہے۔ پہلے یہ کہ حماس نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی تشدد ترک کرتے ہوئے یہ مانا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات ہی صحیح راستہ ہیں‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حقیقتاً اسرائیل کے لیے بہت مشکل ہے کہ وہ ایک ایسی میز پر بیٹھے جس کے دوسری جانب موجود لوگ اسے بقاء کا حق دینے کو تیار نہیں۔ اس لیے یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا حل فلسطینیوں کو نکالنا ہوگا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’پہلے انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ متحدہ فلسطینی اتھارٹی کا اسرائیل کے حوالے سے سرکاری موقف کیا ہے۔ کیونکہ اگر وہ اس رکاوٹ کو عبور نہیں کر سکتے تو مذاکرات کا ہونا بہت ہی مشکل ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیرحقیقی خیال ہے کہ آپ اس معاملے کو اقوامِ متحدہ میں حل کر سکتے ہیں۔ براک اوباما نے کہا کہ امریکہ فلسطینی حکام کو بتا چکا ہے کہ ’اقوامِ متحدہ میں جو چاہے ہو اگر آپ کو ایسی ریاست چاہیے جس میں آپ کو حقِ خودارادیت ملے تو آپ کو اسرائیلیوں سے بات کرنا ہوگی۔ آپ انہیں نظرانداز کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ آپ اقوامِ متحدہ میں جو بھی کوشش کریں وہ صرف علامتی ہوں گی‘۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔