کشمیر کا نقشہ، بھارت پر سینسرشپ کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نقشے کی جگہ کو خالی چھوڑ دیا گیا ہے

بھارت میں حکام کی طرف سے اکانومسٹ میگزین کو اس کے تازہ ترین جریدے میں کشمیر کے متنازعہ علاقے کے نقشے کو چھپانے پر مجبور کرنے کے بعد بھارت کی حکومت پر ’جارحانہ سینسرشپ‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

بھارت کی حکومت نے اکانومسٹ میگزین میں شائع ہونے والے کشمیر کے ایسے نقشے کو غلط قرار دیا جس میں کشمیر کو تین ملکوں پاکستان، بھارت اور چین کے درمیان متنازعہ علاقہ دیکھا گیا۔

کشمیر کے بھارت اور پاکستان دونوں ملک ہی دعوے دار ہیں لیکن انیس سو اڑتالیس سے یہ خطہ دونوں ملکوں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔

گزشتہ باسٹھ برس میں تنازعہ کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان جنگوں کا باعث بھی بن چکا ہے۔

اکانومسٹ میگزین کے تازہ ترین شمارے کی تیس ہزار کاپیاں جو بھارت میں تقسیم کی جارہی ہیں ان میں جس جگہ کشمیر کا نقشہ شائع کیا گیا تھا اب بھارتی حکام کی طرف سینسر لگائے جانے کے بعد اس جگہ کو خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یہ نقشہ اکانومسٹ میگزین کے تازہ شمارے کی سرے ورق کی کہانی کو بیان کرنے کے لیے شائع کیا گیا تھا جس میں بھارت اور پاکستان کی سرحدوں کو دنیا کا خطرناک ترین علاقہ قرار دیا گیا ہے۔

بھارتی حکام نے میگزین کو نقشے کی جگہ خالی چھوڑنے پر اس لیے مجبور کیا کیونکہ نقشے میں پورے کشمیر کو بھارت کا حصہ نہیں دکھایا گیا تھا۔

اکانومسٹ میگزین کا کہنا ہے کہ اس نقشے میں موجودہ سرحدوں کو متازعہ علاقے کی حقیقی عکاسی کی گئی تھی۔ میگزین کا مزید کہنا تھا کہ بھارت اس بارے میں چین اور پاکستان سے زیادہ سخت گیر رویہ رکھتا ہے۔

جریدے کا کہنا تھا کہ بھارتی عوام زمینی حقائق کا سامنا کرنے کو تیار ہیں لیکن ان کی حکومت ایسا کرنے کو تیار نہیں ہے۔

بھارت میں حکام کشمیر کی متنازع سرحدوں کے معاملے پر اکثر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بشمول بی بی سی کو نشانہ بناتے رہتے ہیں اگر وہ بھارت کے دعوؤں کی اپنی نشریات یا اشاعات میں عکاسی نہ کریں۔

اسی بارے میں