ترکی میں برسراقتدار پارٹی کی فتح

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعظم رجپ طیپ اردگان کی جماعت نے پچاس فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں

ترکی میں وزیر اعظم رجپ طیپ اردگان کی جماعت اے کے پی نے عام انتخابات میں تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے۔

انتخابی کامیابی کے بعد اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم رجپ طیپ اردگان نے اعلان کیا کہ وہ اپنے مخالفین کو ساتھ ملا کر ملک کے نئے آئین پر کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ملک میں ایک ایسا اتفاقِ رائے چاہتے ہیں جس کے تحت ہر شہری خود کو سیاسی عمل کا حصہ سمجھے۔

اطلاعات کے مطابق اب تک نوے فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے اور وزیر اعظم رجپ طیپ اردگان کی جماعت نے پچاس فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

ترکی کے مقامی میڈیا کے مطابق برسرِاقتدار جماعت پچاس فیصد ووٹوں کی بنیاد پر پارلیمنٹ میں تین سو چھبیس نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنی اس عددی برتری کی بنیاد پر رجپ طیب اردگان باآسانی تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہو کر حکومت کر سکتے ہیں لیکن ان کی حمایت ملکی آئین میں یکطرفہ طور پر ترمیم متعارف کرنے کے لیے مطلوب دو تہائی پارلیمانی اکثریت سے اکتالیس ووٹ کم ہو گی۔

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی نے چھبیس فیصد جبکہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی نے تیرہ فیصد ووٹ حاصل کیے۔

استنبول میں بی بی سی نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کے دس فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے کی حد عبور کی وجہ سے وزیر اعظم کی جماعت کو پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت نہ مل سکی۔

نامہ نگار کے مطابق اگر انہیں دو تہائی اکثریت مل جاتی تو انہیں ملک میں نیا آئین متعارف کرانے کے لیے ریفرنڈم کرانے کی ضرورت نہ پیش آتی۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کیونکہ اے کے پی تین سو تیس سے بھی کم نشستیں حاصل کر پائی ہے اس لیے اسے آئینی ترمیم کے سلسلے میں ریفرنڈم کرانے کے لیے بھی حزب اختلاف کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہو گی۔

دو ہزار سات میں ہونے والے انتخابات میں وزیر اعظم رجپ طیپ اردگان کی جماعت اے کے پی نے تین سو اکتالیس نشستیں حاصل کی تھیں۔

دیگر جماعتوں میں ریپبلکن پیپلز پارٹی نے ایک سو پینتیس نشستیں حاصل کی ہیں جو اس کی دو ہزار سات میں حاصل کردہ نشستوں سے تئیس زیادہ ہیں جبکہ نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی نے چوون نشستیں حاصل کی ہیں جو اس کی سابق پارلیمنٹ میں حاصل کردہ نشستوں سے سترہ کم ہیں۔

اسی بارے میں