یونان: معاشی اقدامات کی منظوری پر دوسرا ووٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یونان کی پارلیمان جمعرات کو اٹھائیس ارب یورو کی امداد کے لیے بچت کے غیر مقبول پروگرام کی منظوری کے لیے دوسری بار ووٹنگ کرے گی۔

یونانی پارلیمان نے بدھ کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے باوجود بچت کے اس غیر مقبول پروگرام کی منظوری دی تھی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اگر یونانی پارلیمان نے اس پیکج کو منظور نہ کیا تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔

یونان میں بچت کے اقدامات

جنوبی ایشیائی بھی متاثر

بدھ کو ہونے والی رائے دہی کے تحت اگلے پانچ برس میں ٹیکس بڑھانے سے کم و بیش چودہ ارب یورو کی بچت کی جا سکے گی اور مزید چودہ ارب یورو عوامی اخراجات سے کم کیے جا سکے گے۔

جبکہ آج ہونے والی ووٹنگ سے اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ نیا پیکج لاگو کیا جائے گا یا نہیں۔

یونان میں عوامی احتجاج جاری ہے اور گزشتہ رات کو پارلیمان کے سامنے واقع آئینی سکوائر میں مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

یونانی وزیراعظم جارج پپانڈریو نے پارلیمان کے ارکان سے مشترکہ طور پر پیکج کو منظور کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مسٹر پپانڈریو نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں کہا تھا کہ اخراجات میں کی کمی ایک واحد طریقہ ہے جس سے یونان اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔

پارلیمان میں حزبِ اختلاف کی ایک رکن ایلسا پپاڈمٹریو نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے کے حق میں ووٹ کرنا چاہتی ہیں تاکہ بہتری کے امکانات بڑھ سکیں۔

اخراجات کی کمی کے پیکج کے مخالفین نے سڑکیں بند کر دیں تھیں اور پارلیمان میں ارکان کو داخل ہونے سے روک رہے تھے۔

پولیس اہلکاروں کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال کرنے پر احتجاج کرنے والوں نے جواباً پتھر اور کچرا پھینکا۔

اخراجات کی بھرپور کمی کے پیکج کی منظوری کے ذریعے یونان ایک سو دس ارب یورو کے قرض کی اگلی قسط یورپی یونین اور عالمی مالیاتی ادارے کو ادا کرنے کے قابل ہو گا۔

اسی بارے میں