ترک افواج کے سربراہان مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ترک حکومت نے مسلح افواج کے سربراہان کے استعفوں کے بعد ملک کی بری فوج کے نئے سربراہ کا تقرر کر دیا ہے۔

ترکی کی مسلح افواج کے سربراہ ايشيك كوشانير نے بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کے ہمراہ جمعہ کو مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ ترک حکومت کا کہنا ہے ان فوجی کمانداروں سے ریٹائر ہونے کو کہا گیا ہے

اطلاعات کے مطابق ان فوجی افسران نے ملک میں عدالتوں کی جانب سے کئی مقدمات کو فوجی افسران کو جیل بھیجے جانے کے خلاف احتجاجاً استعفے دیے ہیں۔جنرل كوشانير کو گزشتہ برس ترک مسلح افواج کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا

ترکی میں حالیہ برسوں میں ملک کی سکیولر فوج اور رجب طیب اردگان کی حکومت کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

جنرل كوشانير نے حال ہی میں وزیراعظم اردگان سے کئی ملاقاتیں کی تھیں اور یہ ملاقاتیں آئندہ ہفتے ترکی میں سپریم فوجی کونسل کے اجلاس سے متعلق تھیں جس میں فوجی افسران کی ترقیوں کا فیصلہ ہونا تھا۔

اطلاعات کے مطابق سینیئر فوجی افسران کچھ ایسے افسران کو سالانہ ترقیاں دینے کے حق میں تھے جنہیں سنہ 2003 کی مبینہ فوجی بغاوت کے منصوبے میں ملوث پایا گیا تھا تاہم ترک حکومت نے اس سے انکار کر دیا تھا۔

ترک خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق جنرل كوشانير نے کہا کہ وہ اس لیے مستعفی ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں یہ ضروری لگا۔

جنرل كوشانير اور ان کے ساتھیوں کے استعفے عدالت کے اس فیصلے کے بعد آئے ہیں جس میں بائیس مشتبہ افراد پر جن میں کئی جنرل اور دیگر فوجی افسران شامل ہیں، حکومت کو بدنام کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر مہم چلانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ادھر ترک حکومت نے جنرل نزدت اوزل کو ملک کی بری فوج کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔

وزیراعظم طیب اردگان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک افواج متحد ہو کر اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہیں گی۔ اسی بیان میں جنرل اوزل کی بطور سربراہ بری فوج اور ڈپٹی چیف آف جنرل سٹاف تقرری کا ذکر بھی ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کی سپریم کونسل کا اہم اجلاس طے شدہ منصوبے کے مطابق پیر کو ہی ہوگا۔

اسی بارے میں