مقدمے کی براہ راست نشریات پر پابندی

مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران جج نے سماعت کی ٹیلی وژن پر براہِ راست نشریات روک دی ہیں۔

جج نے اس مقدمے کو سابق وزیرِ داخلہ حبیب عدلی کے خلاف قائم مقدمے سے یکجا کرنے کا بھی حکم دیا۔

مصرمیں سابق وزیرکو بارہ برس قید

کوئی جرم نہیں کیا،مقدمے کا سامنا کروں گا:مبارک

تراسی سالہ حسنی مبارک کو ایک مرتبہ پھر ہسپتال کے پہیوں والے بستر پر عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس مقدمے میں اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ انہوں نے مصر میں بغاوت کے دوران مظاہرین کے قتل کے احکامات جاری کیے تھے تو انہیں سزائے موت ہو سکتی ہے۔

عدالت کے جج نے مقدمے کی کارروائی کو ٹیلی وژن پر نشر کرنے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے اس فیصلے کو عوامی مفاد میں قرار دیا۔ مقدمے کی سماعت پانچ سمتبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹیلی وژن پر براہ راست نشریات سے عدالت کے کام میں سہولت پیدا ہوگی۔ تاہم کمرہء عدالت کے باہر حسنی مبارک کے مخالفین اس فیصلے پر سخت ناراض تھے۔

حسنی مبارک کے دو بیٹے اعلیٰ اور جمال بھی بدعنوانی کے مقدمے میں نامزد ہیں۔

کمرہء عدالت کے باہر حسنی مبارک کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں ہوئیں۔ بعض لوگ مقدمے کی کاروائی ٹیلی وژن پر براہِ راست نشر کرنے پر ناراض تھے۔

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو فروری میں ہونے والے ملک گیر احتجاج کے بعد عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں