لاذقیہ:حکومتی کریک ڈاؤن، ہلاکتیں چونتیس

لاذقیہ میں فوجی کاروائی کی فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ چھ ماہ میں لاذقیہ میں کئی بار حکومت مخالف مظاہرے ہوئے تھے

شام کے شہر لاذقیہ میں رہائشیوں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی فوج کی مظاہرین کے خلاف مسلسل چوتھے روز بھی کارروائی جاری رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شام فوج کی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چونتیس ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ لاذقیہ میں سنیچر کو شامی فوج نے بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے بعد کارروائی شروع کی تھی۔

شامی صدر کریک ڈاؤن ختم کریں: بانکی مون

شہر کی چھ لاکھ آبادی میں اکثریت ملک میں اقلیتی فرقے علوی کی ہے جب کہ فوجی کارروائی سنی اکثریتی علاقوں میں کی جا رہی ہے۔

صدر بشار الاسد کا تعلق بھی علوی فرقے سے ہے۔

منگل کو ایک عینی شاہد نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ کم آمدن والے علاقوں رامیل اور الشاب میں دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔

ایک رہائشی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ ہر روز ہونے والی فائرنگ کی آواز میں ہی انھیں سونے اور جاگنے کی عادت ہو گئی ہے۔‘

دریں اثناء شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی صنعاء نے بتایا کہ شامی فوج مشرقی شہر دیر الزور سے مسلح دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے کے بعد شہر سے واپس نکل رہی ہے۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ ساحلی شہر لاذقیہ پر ملکی فوج کی گولہ باری کے بعد وہاں مقیم ہزاروں فلسطینی مہاجرین مہاجر کیمپ چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب چلے گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے بحالی اور امداد کے ادارے کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پانچ سے دس ہزار مہاجرین شہر چھوڑ کر نکل آئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فوری طور پر شہر سے نکلنے کی کوشش میں چار افراد ہلاک بھی ہوئے جب کہ کیمپ سے بچ نکلنے والوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں کہ وہ کہاں ہیں، ان میں کتنی عورتیں اور کتنے بچے شامل ہیں۔

اس سے پہلے شام میں سماجی کارکنوں کے مطابق ساحلی شہر لاذقیہ میں سیکورٹی فورسز نے ان بچوں اور خواتین پر گولیاں چلائی ہیں جو لڑائی سے بچ کر قریب کے رامیل علاقے میں جانے کی کوشش کررہے تھے۔

شام کی حکومت ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ان مسلح شدت پسندوں سے لڑنے کی کوشش کررہی ہے جنہوں نے شہر میں ناکہ بندی کررکھی ہے اور جو چھتوں پر سے گولیاں چلا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ شام میں اس وقت عالمی صحافیوں کے نقل و عمل پر بعض پابندیاں عائد ہیں اس لیے خبروں کی تصدیق مشکل ہے۔ اطلاعات کے مطابق لاذقیہ میں حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کے لیے ہزاروں افراد سڑک پر نکل آئے تھے۔گزشتہ چھ ماہ میں لاذقیہ میں کئی بار حکومت مخالف مظاہرے ہوئے ہیں۔

شام کی حکومت پر پوری دنیا کی مختلف حکومتیں دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ شہریوں پر تشدد کا خاتمہ کرے۔ اس سے قبل امریکہ کے صدر براک اوباما اور سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے مشترکہ طور پر شامی حکومت سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے شہریوں کے خلاف تشدد بند کرے۔

شام میں حزب مخالف کے کارکنوں کے مطابق رواں سال مارچ میں شروع ہونے والی شورش میں اب تک سترہ سو سے زائد شامی شہری ہلاک اور لاکھوں گرفتار ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں