رفیق الحریری کے قتل کا الزام حزب اللہ پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حزب اللہ نے اس فرد جرم کو مسترد کر دیا ہے

لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کی نگرانی میں قائم کردہ ٹرائبیونل نے اپنی رپورٹ میں چار مشتبہ افراد کو اس قتل میں فرد جرم عائد کی ہے اور کہا ہے کہ ان پر مقدمات چلانے کے لیے ثبوت موجود ہیں۔

ان چاروں مشتبہہ افراد کا تعلق حزب اللہ تنظیم سے اور ان کو قتل میں واقعاتی شواہد کی بنا پر جن میں ٹیلی فون ریکارڈ شامل ہے ملوث ٹھہرایا گیا ہے۔

بیس ہزار صفحات پر مشتمل فردجرم کے مطابق دستیاب شواہد چاروں ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے کافی ہیں۔

یہ مقدمہ ملزمان کی عدم موجودگی میں ہی چلایا جائے گا کیونکہ جون میں فرد جرم لبنانی حکومت کو بھیجے جانے سے لےکر اب تک حکام چاروں میں سے کسی ایک ملزم کو بھی گرفتار نہیں کرپائے ہیں۔

تفتیشی جج نے بیس ہزار میں سے سینتالیس صفحات شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس شائع شدہ فرد جرم کے مطابق حزب اللہ کے ایک سرکردہ رہنما مصطفیٰ بدرالدین اس کارروائی کی نگرانی کر رہے تھے۔

۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سلیم آیاش نامی حزب اللہ کے اعلی اہلکار اس وقت موقع پر رابط کار کے طور پر موجود تھے۔

ان کے علاوہ حزب اللہ کے دو دیگر اہلکاروں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے تفتیش کاروں کو گمراہ کرنے کے لیے وہاں ایک ویڈیو ٹیپ چھوڑی تھی جس میں ایک جعلی تنظیم کی طرف سے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔

فروری سنہ دو ہزار پانچ میں بیروت کے مرکزی علاقے میں ہونے والے اس بم دھماکے میں سابق وزیر اعظم رفیق الحریری سمیت اکیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس دھماکے میں ڈہائی ہزار کلو گرام دھماکہ خیز مواد ایک وین میں لدا ہوا تھا جو رفیق الحریری کے قافلے سے آ کر ٹکرائی تھی۔

اس ٹرائبیونل نے گزشتہ ماہ ان چاروں افراد کی تصاویر اور دیگر معلومات جاری کی تھیں۔

اس فرد جرم میں پانچ فون ٹیٹ ورکس کی نشاندھی کی گئئ ہے جو مبینہ طور پر اس قتل کی منصوبہ بندی میں استعمال کیے گئے۔ اس کے مطابق رفیق الحریری پر حملے سے قبل پندرہ دنوں تک ان کی نگرانی کی گئی۔

فرد جرم میں کہا گیا کہ ریڈ نیٹ ورک جو کہ قتل میں ملوث ٹیم نے استعمال میں تھا قتل کے دو منٹ بعد بند ہو گیا۔

فرد جرم واقعاتی شواہد پر عائد کی گئی اور اس میں کہا گیا ہے کہ بعض اوقات واقعاتی شواہد عینی شاہدیں سے زیادہ مصدقہ ہوتے ہیں کیونکہ عینی شاہدین صدمے اور دیگر وجوہات کی بنا پر اصل واقعات کو یاد نہیں رکھ پاتے۔

.بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کے مطابق یہ فرد جرم حزب اللہ کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے ہراول دستے کے طور پر پیش کرتی ہے۔

حزب اللہ نے فریق الحریری کے قتل میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی اور فرد جرم کو رد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ مغرب اور اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔

Iرفیق الحریری کے قتل کے بعد لبنان میں ایک بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی تھی اور قتل اور بم دھماکوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کی وجہ سے ملک میں .خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سربراہ میں قائم اس ٹرائبیونل کے سربراہ ڈینیل بیلیمیر نے کہا کہ فرد جرم کی اشاعت سے عوام کو حقائق سے آگاہی حاصل ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اصل کہانی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران عوام کے سامنے آئے گی۔

سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کے صاحزادے سعد الحریری نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ سے کہا ہے کہ وہ ان چاروں مشبہہ افراد کو حکام کے حوالے کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ سے صرف یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ان چاروں مشبہہ افراد سے اپنے تعلقات منقطع کر لیں۔