لندن: ’سزا جرم سے کہیں زیادہ ہے‘

لندن فساد فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منگل کو 1277 افراد کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جس میں 64 فیصد افراد کو پولیس تحویل میں دے دیا گیا

برطانوی ممبر پارلیمنٹ اور انصاف کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حالیہ فسادات میں کچھ لوگوں کو دی گئی سزائیں بہت سخت ہیں۔

منگل کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر فسادات کے لیے بھڑکانے کے الزام میں دو افراد کو چار چار سال قید سنائی گئی ہے۔ ایک اور مقدمے میں ایک شخص کو گاڑی میں سے چوری کا ٹی وی سیٹ برآمد ہونے پر اٹھارہ ماہ کی قید سنائی گئی ہے۔

لبرل ڈیموکریٹ جماعت کے ممبر پارلیمنٹ ٹام بریک کا کہنا ہے کہ کچھ مقدموں میں سزا بہت سخت دی گئی ہے۔ تاہم کنزرویٹو جماعت کے ممبر پارلیمنٹ گیون بارول کا کہنا ہے کہ ان سزاؤں سے یہ پیغام دینا ہے کہ حکومت اس قسم کی حرکات برداشت نہیں کرے گی۔

منگل کو 1277 افراد کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جس میں 64 فیصد افراد کو پولیس تحویل میں دے دیا گیا۔ یاد رہے کہ دو ہزار دس میں پولیس تحویل میں دیے جانے والے افراد کی شرح دس فیصد تھی۔

ٹام بریک نے بی بی سی کے نیوز نائٹ پروگرام میں کہا کہ میجسٹریٹ جو اس وقت سزائیں دے رہے ہیں وہ اس سزا سے کہیں زیادہ ہے اگر یہ جرم فسادات شروع ہونے سے ایک روز قبل سرزد کیے جاتے۔

’ان افراد کو سزا دینے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ان کو باور ہو جائے کہ انہوں نے جرم سرزد کیا ہے۔‘

قانونی اصلاحات کے لیے کام کرنے والے اینڈریو نیلسن نے ٹائمز اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کئی مقدموں میں سزا جرم کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔

جیلوں کی اصلاحات ٹرسٹ کی ڈائریکٹر جولیئٹ لیئن نے ٹائمز اخبار کو بتایا ’فسادات میں جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو جلد سزا دینے میں انصاف نہیں کیا جا رہا۔‘

دوسری جانب گارڈیئن اخبار سے بات کرتے ہوئے جسٹس پالیسی کی ڈائریکٹر سیلی آئرلینڈ نے کہا کہ ان سزاؤں کے خلاف بے تحاشہ اپیلیں کی جائیں گی لیکن جب تک ان اپیلوں کا فیصلہ کیا جائے گا اس وقت تک زیادہ تر لوگ اپنی سزائیں پوری کر چکے ہوں گے۔

تاہم ایم پی بارویل جن کے حلقہ انتخاب میں سب سے زیادہ فساد ہوئے تھے کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سخت سزاؤں کے حق میں بہت سے لوگ ہیں۔

اسی بارے میں