یمنی صدر، وطن واپسی کے عزم کا اظہار

علی عبداللہ صالح تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدارتی محل پر ہونے والے حملے میں صدر علی عبداللہ صالح زخمی ہوگئے تھے

سعودی عرب میں علاج کے لیے قیام پذیر یمنی صدر علی عبداللہ صالح نے وطن واپسی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

سعودی دارالحکومت ریاض سے ٹیلی ویژن پر اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے یمنی صدر نے کہا کہ’ آپ سے جلد ہی دارالحکومت صنعاء میں ملاقات ہو گی۔‘

صدر نے اپنی تقریر میں حزب اختلاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سیاسی بحران کے حل کے لیے انتخاب کا راستہ اپنانے کی پیشکش کی۔

ایک اطلاع کے مطابق’صدر نے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں اور قبائلیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انھیں سڑک کے چور اور موقع پرست کہا جب کہ مظاہرین سے کہا کہ ان کی تحریک ہائی جیک ہو گئی ہے۔‘

جون میں صدر عبداللہ صالح صدارتی محل پر گولہ باری کے نتیجے میں زخمی ہو گئے تھے اور بعد میں علاج کے لیے سعودی عرب چلے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق وہ چالیس فیصد تک جھلس گئے اور ان کے دل کے زرا نیچے بم ایک دھار دار ٹکڑا بھی لگا تھا۔

انھیں گزشتہ ہفتے علاج کے بعد ہسپتال فارغ کر دیا گیا تھا۔

صدر علی عبداللہ صالح گزشتہ تنتیس سال سے اقتدار میں ہیں اور کئی ماہ تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد بھی اقتدار سے الگ ہونے سے انکاری ہیں۔

سعودی عرب اور امریکہ نے صدر علی عبداللہ صالح پر زور دیا ہے کہ وہ اقتدار سے الگ ہو جائیں کیونکہ امریکہ کو خدشہ ہے کہ یمن میں تنازع کے دوبارہ شروع ہونے سے وہاں موجود القاعدہ فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

دریں اثناء یمن میں صدر صالح کی حامی فوج اور قبائلیوں کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب کو دارالحکومت صعناء کے شمال مشرق کے علاقے عرحب میں جھڑپوں کے دوران تئیس قبائلی ہلاک ہو گئے ہیں۔

تشدد کے حالیہ واقعات علاقے میں ریپبلکن گارڈز کی جانب سے ایک چیک پوسٹ قائم کیے جانے کے بعد شروع ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں