ہرات، بم پھٹنے سے بائیس ہلاک

ہیرات دھماکے کے متاثرین تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بس میں زیادہ تر عورتیں اور بچے سوار تھے۔

افغانستان کے صوبے ہرات میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے ایک منی بس میں سوار کم از کم بائیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

افسران کا کہنا ہے دھماکے کی زد میں آنے والی بس میں زیادہ تر عورتیں اور بچے سوار تھے۔یہ بس ضلع اوبے سے ہرات کے دارالحکومت کی سمت جا رہی تھی۔

اس سے قبل جمعرات کو ہی مشرقی صوبے پکیتہ میں ایک خود کش حملے میں دو افغان محافظ ہلاک ہو گئے۔

افغانستان: پہلے چھ ماہ میں 1462 عام شہری ہلاک

خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس نے گاؤں کے ایک بزرگ عبدالبشیر کے حوالے سے بتایا کہ سڑک کے کنارے ہونے والا بم دھماکہ بہت طاقتور تھا اور ہلاک شدگان میں عورتیں بچے اور مرد سبھی شامل ہیں۔ لاشوں کی شناخت بھی خاصی مشکل ہو گئی ہے‘۔

افغان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سڑک کے کنارے بم نصب کرنے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔

گزشتہ برس دسمبر میں اسی علاقے میں ایسے ہی ایک روڈ سائیڈ بم دھماکے میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

افغانستان میں شدت پسند بڑے پیمانے پر گھریلو ساخت کے بموں کا استعمال کر رہے ہیں اور ان بموں کا نشانہ عموماً افغان اور بین الاقوامی سکیورٹی فورسز ہوتے ہیں لیکن چونکہ یہ بم لگا کر چھوڑ دیے جاتے ہیں اس لیے کوئی بھی گاڑی ان بموں کا نشانہ بن جاتی ہے۔

افغانستان میں اس طرح کے بموں کا شکار زیادہ تر شہری ہی بن رہے ہیں۔

اسی بارے میں