ایشیائی بازارِ حصص پھر مندی کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یورپی اور ایشیائی بازارِ حصص مالیاتی بحران کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کے زیر اثر ہیں

جمعرات کو امریکی اور یورپی بازارِ حصص میں گراوٹ کے بعد، جمعہ کو ایشیائی حصص بازاروں میں بھی مندی کا رجحان رہا ہے۔

کاروبار کے آغاز پر جاپان کے نکی انڈیکس میں دو فیصد، جنوبی کوریا کے كوسپي انڈیکس میں ساڑھے چار فیصد اور آسٹریلیا کے اے ایس ایکس انڈیکس میں دو اعشاریہ چھ فیصد کی کمی ہوئی ہے۔

جمعرات کو امریکی بازارِ حصص کو بھاری مندی کا سامنا رہا تھا اور ڈاؤ جونز انڈیکس تین اعشاریہ سات فیصد کمی پر بند ہوا تھا جبکہ یورپی سٹاک مارکیٹس میں اوسط کمی چار سے چھ فیصد کے درمیان رہی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بازارِ حصص میں تیزی سےگراوٹ کی وجہ سرمایہ کاروں کا وہ ڈر ہے کہ دنیا ایک بار پھر اقتصادی کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔

عالمی بازارِ حصص میں یہ خدشات حالیہ چند ہفتوں میں سامنے آئے ہیں جس کے بعد بازار شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔

پالیسی سازوں کی جانب سے نمو میں اضافے اور بازارِ حصص کو پرسکون کرنے کی کوششوں کے باوجود جمعرات کو مورگن سٹینلے نے کہا ہے کہ امریکہ اور یورپ ’کساد بازاری کے دہانے پر ہیں‘۔

سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کار يورو زون کے قرض بحران کو بھی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ اس کا اثر یورپی بینکوں پر پڑ رہا ہے لیکن یورپی یونین کے صدر ہرمن وین رامپي نے کہا ہے کہ سٹاک مارکیٹس میں گراوٹ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یورپ مندی کے دور میں جا رہا ہے۔

جمعرات کو یورپ میں جب بازار بند ہوا تو لندن میں حصص کی قیمتوں میں چار اعشاریہ چار فیصد جبکہ فرینکفرٹ میں پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ پیرس میں بھی حالات بہتر نہ تھے اور بازار میں پانچ اعشاریہ چار فیصد کی کمی ہوئی۔

تاہم ایشیائی بازارِ حصص میں تشویشناک صورتحال کے باوجود جمعہ کو بھی سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے اور سونے کی فی اونس قیمت ایک نئی ریکارڈ سطح ایک ہزار آٹھ سو تینتیس ڈالر پر پہنچ گئی ہے۔

یورو کے مقابلے میں سوئس فرانک کی قدر میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے علاوہ سرکاری بانڈز کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔

اسی بارے میں