ترکی صومالیہ میں سفارتخانہ کھولے گا

رجب طیب اردگان صومالیہ میں تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption صومالیہ کا مسئلہ تمام انسانیت کا امتحان ہے: اردگان

ترکی نے کہا ہے کہ وہ صومالیہ میں اپنا سفارتخانہ کھولے گا اور کئی سالوں سے ہونے والی لڑائی میں تباہ ہونے والی اہم سہولیات کی بحالی میں بھی مدد دے گا۔

ترکی کی طرف سے یہ اعلان ملک کے وزیر اعظم کے صومالیہ کے دورے کے موقع پر کیا گیا۔ افریقہ سے باہر کے کسی ملک کے سربراہ کا یہ صومالیہ کا بیس سال میں پہلا دورہ ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ نے جو اپنے وزیر اعظم کے دورہ کرنے والے وفد میں شامل ہیں کہا کہ اس خیال کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ موغادیشو خطرناک جگہ ہے جہاں جایا نہیں جا سکتا۔

مشرقی افریقہ اس وقت ساٹھ میں سب سے بڑی خشک سالی سے گزر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق ایک کروڑ بیس لاکھ لوگ اس قحط سے متاثر ہوئے ہیں۔

صومالیہ کا زیادہ تر علاقہ اسلامی تنظیم الشباب کے کنٹرول میں ہے۔ الشباب نے جس کا القاعدہ سے تعلق ہے بہت سے امدادی اداروں کو اپنے علاقوں میں جانے سے منع کیا ہوا ہے۔

الشباب نے حال ہی میں موگادیشو سے یہ کہتے ہوئے پسپائی اختیار کی تھی کہ وہ ایسا حکمت عملی کے تحت کر رہے ہیں۔ ترکی کے وزیر اعظم صومالیہ کے دورہ کرنے والے سب سے سینیئر رہنماء ہیں۔

موگادیشو ایک کمزور حکومت عبوری حکومت اور متحدہ افریقہ کے نو ہزار فوجیوں کے کنٹرول میں ہے۔ ترکی کے وزیر اعظم نے جو اپنی اہلیہ، بیٹی اور کابینہ کے ارکان اور ان کے اہلہ خانہ کے ہمراہ ہیں کہا کہ صومالیہ کا مسئلہ تمام انسانیت کا امتحان ہے۔

ترکی کے وزیرِ اعظم کے صومالیہ کے دورے سے کچھ روز قبل ترکی اور کچھ دیگر مسلم ممالک نے خشک سالی سے نمٹنے میں مدد کے لیے تین سو پچاس ڈالر کی امداد کا عہد کیا تھا۔

اسی بارے میں