امریکہ میں تارکین وطن کے لیے نئی پالیسی

امریکہ میں ایسے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جو کہ معاشرے کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں ملک بدر کیے جانے کی کارروائی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

داخلہ سکیورٹی کی وزیر جینٹ نیپولیتانو نے کہا ہے کہ تین لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کے کیسز کو نظر ثانی کرنے کے لیے الگ کیا گیا ہے۔

ایک انداز کے مطابق ایک کروڑ دس لاکھ غیر قانونی تارکین وطن امریکہ میں مقیم ہیں جن میں سے زیادہ تعداد ہسپانیوی باشندوں کی ہے۔

اوباما انتظامیہ کی طرف سے اعلان کردہ نئی پالیسی کے تحت ایسے غیر قانونی تارکین وطن کو ترجیح دی جائے گی جو اوئل عمری میں امریکہ آئے تھے، وہاں پر جوان ہوئے، وہیں اپنی تعلیم مکمل کی اور اب کالجوں میں داخلے اور فوج میں بھرتی ہونے کے خواہشمند ہیں۔

جینٹ نیپولیتانو نے کہا ہے کہ ان کیسوں کی پیروی سے عدالتی نظام پر بوجھ زیادہ ہے اور وسائل کا ضیائع ہے جبکہ ان وسائل کو ایسے غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے پر استعمال ہونا چاہیے جو معاشرے کے لیے خطرہ ہیں۔

امریکی سینیٹروں کے نام ایک خط میں داخلی سلامتی کی وزیر نے کہا کہ ایسے غیر قانونی تارکین وطن جن کو مختلف جرائم میں سزائیں ہو چکی ہیں انھیں ملک بدر کیا جاتا رہے گا۔

اوباما انتظامیہ کے اس اقدام کو ’ڈریم ایکٹ‘ کی تجویز کے حامیوں کی طرف سے بڑی پذیرائی ملی ہے۔

رپبلکن جماعت کے رکن لیمر سمتھ کا جو ایوان نمائندگان میں قانونی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں کہنا ہے کہ اس پالیسی سے بظاہر لگاتا ہے کہ یہ امیگریشن عدالتوں کے فیصلوں کو تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اوباما انتظامیہ کو امیگریشن قوانین کا اطلاق کرنا چاہیے نہ کہ ان کو نظر انداز کرنے کے طریقے ڈھنوڈنے چاہیں۔.

اسی بارے میں