مصر نے اسرائیل سے سفارتکار واپس بلا لیا

مصر میں احتجاج کی ایک فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصر نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل سے ان ہلاکتوں کی تفتیش کے ساتھ معافی بھی چاہتا ہے

مصر کا کہنا ہے کہ جمعرات کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانی والی فائرنگ کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکاروں کے ہلاکت کے بعد وہ اسرائیل سے اپنے سفارتکار کو واپس بلائے گا۔

قاہرہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو سیاسی اور قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسرائیل نہ صرف ان ہلاکتوں کی تفتیش کرے بلکہ معافی بھی مانگے۔

اسرائیل نے وعدہ کیا ہے وہ ان ہلاکتوں کی تفتیش کرے گا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب اسرائیلی فورسز فلسطینی دہشت گردوں کا پیچھا کررہی تھیں۔

گزشتہ دس برس میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ مصر نے اپنے سفارتکار کو واپس بلایا ہے۔

مصر کی حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے ’اسرائیل میں مصر کے سفارتکار کو تب تک نہیں واپس بھیجا جائے گا جب تک اسرائیلی حکام ہلاکتوں کی تفتیش کے نتائج کے بارے میں ہمیں آگاہ نہیں کرتے۔‘

قاہرہ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ دونوں ممالک کے درمیان 1979 میں ہونے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

اسرائیلی اہلکار نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اسرائیل مصر کے اس بیان کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

یہ واقعہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب جنوبی اسرائیل میں مختلف گاڑیوں پر حملہ ہوئے تھے جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ حملے اس وقت شروع ہوئے جب کچھ بندوق برداروں نے ایک اسرائیلی بس پر فائرنگ کی۔ یہ بس مصر کی سرحد کے نزدیک سے گزر رہی تھی۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ پہلا حملہ ایک بس پر ہوا جس میں 392 افراد سوار تھے۔ یہ بس مسافروں کو جنوبی اسرائیلی قصبے بیر شیبا سے ساحلی سیاحتی شہر ایلات لیکر جا رہی تھی۔

اسی بارے میں