قاتل کوئی اور نہیں شوہر ہی نکلا

کاشف اور انٹوئنیٹ سٹیفن تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس قتل کی منصوبہ بندی کاشف ہی نے بھارتی نژاد انٹوئنیٹ سٹیفن کے ساتھ مل کر کی تھی

امریکی ریاست نیو جرسی میں پاکستانی عورت کے قتل کا معمہ حل ہو گیا ہے اور قاتل کوئی اور نہیں بلکہ مقتول کا مجازی خدا ہی نکلا۔

پاکستانی عورت نازش نورانی کو شمالی نیو جرسی کے علاقے میں منگل کے روز گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

ستائیس سالہ نازش کو گولی اس وقت ماری گئی جب وہ اپنے شوہر چھبیس سالہ کاشف پرویز اور اپنے نوزائدہ بچے کے ساتھ سیر کر رہی تھیں۔

کاشف کو اس مبینہ حملے میں معمولی چوٹ آئی تھی۔ کاشف کے مطابق چند افراد نے ان کو دہش گرد کہا اور فائرنگ کردی۔

تاہم تحقیقات کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ اس قتل کی منصوبہ بندی کاشف ہی نے بھارتی نژاد انٹوئنیٹ سٹیفن کے ساتھ مل کر کی تھی۔

تاہم پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ کاشف کا انٹوئنیٹ کے ساتھ کیا مراسم ہیں۔

پولیس نے کاشف اور انٹوئنیٹ کو حراست میں لے لیا ہے اور ان پر قتل کا الزام عائد کیا ہے۔

پولیس کے مطابق نازش کا تعلق کراچی سے تھا اور کاشف بروکلن کا رہنے والا تھا۔

اس واقعے کے بعد کاشف نے پہلی پولیس کو بتایا کہ ان پر حملہ کرنے والوں میں ایک سیاہ فام، ایک سفید فام اور تیسرے حملے آور کو دیکھ نہیں سکے تھے۔ تاہم کچھ دیر بعد انہوں نے کہا دو سیاہ فام مردوں نے حملہ کیا تھا۔

کاشف اور نازش کی چھ سال قبل شادی ہوئی تھی۔ نازش نے اپنے بھائی کو ایک ایس ایم ایس کیا تھا جس میں لکھا تھا ’کسی دن میں کاشی کی وجہ سے تم کو مردہ حالت میں ملوں گی ۔۔۔ وہ مجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔‘

کاشف نے اپنے ہمساؤں اور اہلِ خانہ کو بتایا ہوا تھا کہ وہ ہارورڈ گریجوئیٹ سکول میں تعلیم حاصل کر رہا ہے تاہم اس سکول میں کاشف کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

اسی بارے میں