امریکیوں کو سزا ’مایوس کن‘:امریکہ

ہلیری کلنٹن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہم ان کی فوری رہائی کی کوششوں کو جاری رکھیں گے: ہلیری

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے دو امریکی شہریوں کو جاسوسی کے الزام میں سزا سنائے جانے پر ’شدید مایوسی‘ کا اظہار کیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کی ویب سائٹ کے مطابق شین باؤر اور جوش فٹال کو ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے الزام میں تین تین سال جبکہ امریکی انٹیلیجنس سروس سے تعاون کرنے کے الزام میں پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

دونوں افراد نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سال دو ہزار نو میں کوہ پیمائی کی ایک مہم کے دوران غلطی سے ایران کی سرحدی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔

دونوں کے وکیل مسعود شفیعی کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے ان کے پاس بیس دن کا وقت ہے اور وہ ہر قانونی طریقے سے اس فیصلے کو بدلنے کی کوشش کریں گے۔

مسعود شفیعی کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ دونوں بے قصور ہیں اور انہیں ابھی تک ایسی کوئی شہادت نہیں ملی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ یہ لوگ قصوروار ہیں۔

اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ وہ اور امریکی عوام شیین باؤر اور جوش فٹال کے اس مشکل وقت میں ان کے اور ان کے گھر والوں کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ ہم ان کی فوری رہائی کی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’شین اور جوش کو قید میں کافی عرصہ گزر چکا ہے اور یہ وقت ہے کہ ان کو اپنے اہلخانہ کے ساتھ دوبارہ سے ملا دیا جائے۔‘

ایک اور کوہ پیما سارا شرد کو گزشتہ سال ستمبر میں طبی وجوہات اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پانچ لاکھ ڈالر جرمانے کے عوض ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سارا شرد کے خلاف مقدمے کی کارروائی اب بھی جاری ہے۔

اسی بارے میں