لیبیا: دارالحکومت میں فائرنگ اور دھماکے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شورش کے آغاز سے اب تک کوئی چھ لاکھ غیر ملکی لیبیا چھوڑ چکے ہیں

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے کئی علاقوں میں بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

لیبیا میں باغیوں نے دارالحکومت طرابلس کے قریب پہنچنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بی بی سی کے ایک انتہائی معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے کئی اضلاع میں شدید لڑائی ہوئی ہے جبکہ باغیوں کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں بغاوت شروع ہو چکی ہے۔

’الزاویہ اور زلتان پر باغیوں کا قبضہ‘

تاہم فائرنگ کے دوران لیبیا کے صدر معمر قذافی سرکاری ٹیلی ویژن پر صوتی طور پر نمودار ہوئے اور کہا کہ ان کی فوجوں نے طرابلس پر حملہ آور ہونے والے باغیوں( جنہیں کرنل قذافی نے چوہوں سے تعبیر کیا) کو مار بھگایا ہے۔

سرکاری ٹیلی وژن سے نشر ہونے والے آڈیو پیغام کے بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ براہ راست نشر ہو رہا ہے اور اسے ثابت کرنے کے لیے انہوں نے تاریخ اور وقت بھی بتایا۔

معمر قدافی نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ باغیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں جنہیں غیر ملکیوں کی مدد حاصل ہے۔

قذافی نے آڈیوں پیغام میں کہا کہ غیر ملکی قوتیں بشمول فرانس، لیبیا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔

قذافی نے نامعلوم مقام سے نشر ہونے والے براہ راست پیغام میں کہا کہ باغی چوہوں کی طرح فرار ہو رہے ہیں۔

بن غازی میں باغیوں کے ایک راہنما عبدالحفیظ غودہ نے ان دعوؤں کی تردید میں کہا کہ طرابلس میں سرکاری اور باغی افواج میں لڑائی جاری ہے اور باغیوں کو مشرق، مغرب اور جنوب کی جانب سے مزید کمک پہنچائی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے باغیوں نے دارالحکومت طرابلس کی جانب مسلسل پیش قدمی کے دوران دو اہم شہروں الزاویہ اور زلتاں پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

دریں اثناء بریگا میں قذافی کی حامی افواج نے دوبارہ پیش قدمی کی ہے۔

باغیوں نے تسلیم کیا ہے کہ بریگا کے صعنتی علاقے میں شدید بمباری کے بعد وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں