آخری وقت اشاعت:  منگل 23 اگست 2011 ,‭ 06:03 GMT 11:03 PST

’طرابلس پر حملے کی منصوبہ بندی نیٹو کے تعاون سے کی‘

لیبیا کے باغیوں نے تصدیق کی ہے کہ طرابلس پر کامیاب حملے کی وسیع منصوبہ بندی نیٹوافواج کے ساتھ مل کر کی گئی تھی اور نیٹو نےلیبیا کے باغیوں کو بنغازی میں فوجی تربیت دی تھی۔ ادھر کرنل قذافی نے نامعلوم مقام سے ایک مقامی ٹیلویژن پر نشر ہونے والے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ آخری دم تک لڑیں گے۔

نیٹونے باغیوں کو تربیت دی

باغیوں نے تصدیق کی ہے کہ فوجی حکمت عملی کےتحت باغیوں کو عام شہریوں کے بھیس میں طرابلس میں داخل کر دیاگیا تھا جنہوں نے مقررہ وقت پر اندر سے لڑائی شروع کر دی۔اس فوجی منصوبے کو ’آپریشن مرمیڈ ڈان‘ کا نام دیا گیا ہے۔

بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار کے مطابق طرابلس پر حملے میں باغیوں کو نیٹو کی فضائی امداد نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ نامہ نگار کےمطابق نیٹو افواج نے’عوام کے تحفظ‘ کے لیے جس انداز میں کارروائی کی ہے اس سے اس موقف کو تقویت ملےگی کہ نیٹو نے اقوام متحدہ کی قرارداد سے تجاوز کیا ہے۔.

ادھر طرابلس پر قبضے کی لڑائی زوروں پر ہے اور باغیوں نے کرنل قذافی کے ہیڈ کوارٹر باب العزیزیہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ٹی وی پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں باغیوں کو کرنل قذافی کے مجسمے کا سر تن سے جدا کرتے اور اسے ٹھوکریں مارتے دکھایا گیا ہے۔ دوسری طرف کرنل قذافی نے ایک مقامی ٹی وی سٹیشن پر خطاب کیا ہے۔

طرابلس پر قبضے کی لڑائی زوروں پر ہے اور باغیوں نے کرنل قذافی کے ہیڈ کوارٹر باب العزیزیہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ٹی وی پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں باغیوں کو کرنل قذافی کے مجسمے کی سر تن سے جدا کرتے اور اسے ٹھوکریں مارتے دکھایا گیا ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا کرنل قذافی یا ان کے خاندان کا کوئی فرد باب العزیزیہ میں موجود تھا یا نہیں۔

دوسری طرف کرنل قذافی نے ایک مقامی ٹی وی سٹیشن پر خطاب کیا ہے۔ اپنے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ نیٹو سے خلاف فتح مند ہوں گے یا پھر ’شہادت‘ کی راہ اختیار کریں گے۔

کرنل معمر قذافی نے کہا کہ انہوں نے باب العزیزیہ کو خالی کرنے کی فیصلہ ایک حکمتِ عملی کے تحت کیا۔ انہوں نے کہا کہ باب العزیزیہ پہلے ہی نیٹو کے چونسٹھ حملوں کے بعد ملبے کا ایک ڈھیر بن چکا تھا۔

قذافی حکومت کے حامی ٹی وی سٹیشن العروبہ نے حکومتی ترجمان موسی ابراہیم سے ایک براہِ راست انٹرویو بھی نشر کیا جس میں انہوں نے باب العزیزیہ کو خالی کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ لیبیا حملہ آوروں کے لیے ابلتا ہوا لاوہ اور ان کے پاؤں تلے دہکتی ہوئی آگ کی شکل اختیار کر لے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ لیبیا کی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے کہا ہے کہ چار دنوں کی لڑائی میں چھ سو افراد ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے فرانسیسی ٹی وی چینل فرانس 24 کو بتایا کہ اب تک باغیوں نے چھ سو قذافی کے حامی فوجیوں کو گرفتار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جب تک کرنل معمر قذافی کو گرفتار نہ کیا گیا اس وقت تک جنگ جاری رہے گی۔

اس سے پہلے باغیوں نے کہا تھا کہ انہوں نے دارالحکومت طرابلس کا تقریباً مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے، تاہم ابھی میں شہر کے کچھ علاقوں میں لڑائی جاری ہے۔

اس سے پہلے باغیوں کے ایک ترجمان عادل نے بتایا تھا کہ منگل کی صبح باغیوں نے کرنل قذافی کے علاقے باب العزیزیہ پر دو اطراف سے ایک بڑے حملے کا آغاز کیا ہے۔ باغی اس حملے میں بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ اور انہوں نے اس دوران باب العزیزیہ کی ایک دیوار کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

باغیوں اور کرنل قذافی کی فوج کے درمیان لڑائی طرابلس میں اُس ہوٹل کے پاس بھی ہو رہی ہے جس میں غیر ملکی صحافی رہ رہے ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر جو فوٹج دکھائی جا رہی ہے اس میں جگہ جگہ راکٹ فائر ہوتے ہوئے اور مختلف علاقوں سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

کرنل قذافی کے بیٹے سیف السلام نے گزشتہ رات کہا تھا کہ باغیوں کا طرابلس میں آنا ایک فوجی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ سیف السلام قذافی نے یہ بھی کہا کہ ان کے والد کرنل قذافی طرابلس میں محفوظ ہیں۔ اس سے قبل خبریں تھیں کہ کرنل قذافی کے دو بیٹوں سیف الاسلام اور محمد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ کرنل قذافی منظر عام سے غائب ہیں۔

دوسری طرف نیٹو کی جانب سے بیان آیا ہے کہ لیبیا کے اس تنازع کا اختتام نزدیک ہے اور صورتحال بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ نیٹو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کرنل قذافی اور اُن کے حامی اب ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نیٹو نے کہا ہے کہ کرنل قذافی کے بیٹے سیف السلام کا منظرِ عام پر آنا زیادہ اہم بات نہیں ہے اور اِس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ طرابلس میں حالات اب بھی اُن قابو میں ہیں۔

اس سے پہلے جرائم کی بین الاقوامی عدالت آئی سی سی کے پراسیکیوٹر لوئی مورینو اوکامپو نے کہا تھا کہ انتالیس سالہ سیف الاسلام گرفتار ہو چکے ہیں۔

باغیوں کی قومی کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے کہا ہے کہ کرنل قذافی کی گرفتاری تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فتح مل گئی ہے۔

’کرنل قذافی کے دن پورے‘

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ طرابلس پر حملہ جاری ہے اور لیبیا کے حکمران کے دن گنے جا چکے ہیں۔ صدر اوباما نے کہا کہ معمر قذافی کو اس بات کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ اب ملک پر ان کا کنٹرول نہیں ہے اور انہیں اقتدار ہمیشہ کے لیے چھوڑنا ہی ہوگا۔

نیٹو کی ایک ترجمان نے بھی کہا ہے کہ کرنل قدافی کی حکومت گر رہی ہے اور انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا اب طرابلس میں سکیورٹی کی بحالی میں مدد ان کی خاص ترجیح ہوگی۔ انہوں نے لیبیا میں باغیوں سے اپیل کی کہ وہ انتقامی کارروائیاں نہ کریں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے گریز کریں۔

اس کے علاوہ جنوبی افریقہ نے ان افواہوں کی تردید کر دی ہے کہ اس نے کرنل قذافی کو نکالنے کے لیے کوئی طیارہ بھیجا ہے۔

فرانس کے صدر نکولا سارکوزی کا کہنا ہے کہ لیبیا فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے جبکہ برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ کرنل قذافی کا کھیل ختم ہونے والا ہے اور وہ اقتدار چھوڑ کر عوام کی تکالیف کو کم کر دیں۔

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں جو باغیوں کا گڑھ ہے لوگ اس امید پر جشن منا رہے ہیں کہ کرنل قذافی کے اقتدار کا خاتمہ ہونے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بصورت دیگر فرانسیسی غاصبین اور برطانوی سامراج واپس آ جائے گا۔ اس سے قبل اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ طرابلس نہیں چھوڑیں گے اور آخر تک یہیں رہیں گے۔

درالحکومت طرابلس میں کرنل معمر قذافی کی رہائش گاہ کے قرب و جوار سمیت متعدد مقامات پر سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جبکہ کرنل قذافی کے جانشین سمجھے جانے والے بیٹے سیف الاسلام کے بعد ان کے دوسرے بیٹے کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں کمی

تیل کی قیمتوں میں اس امید کے ساتھ کمی واقع ہوئی ہے کہ لیبیا میں باغی جلدی ہی دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کر لیں گے۔

خام تیل میں ایک عشاریہ آٹھ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ عالمی معیشت کی بحالی سے متعلق خدشات کا اثر ایشیا میں تیل کی قیمتوں پر بھی پڑا ہے جہاں حصص کی قیمتوں میں کمی اور سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

یورپ میں بازارِ حصص میں بہتری آئی ہے اور تیل سے متعلق سیکٹر کے حصص میں تیزی آئی ہے۔

اطالوی تیل کمپنی ای این آئی لیبیا میں خانہ جنگی سے قبل وہاں خاصی متحرک غیر ملکی کمپنی تھی اور اس کے حصص کی قیمتوں میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ بی پی اور شیل کے شیئرز کی قیمتوں میں دو عشاریہ تین فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

بازار میں امید کی جا رہی ہے کہ لیبیا میں لڑائی ختم ہونے کے بعد وہاں سے تیل کی برآمد بحال ہو جائے گی اور عالمی سطح پر سپلائی بھی بہتر ہوگی۔

لیبیا دنیا کا بارھواں سب سے بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے لیبیا کے سیاسی حالات بہتر ہونگے تیل کی قیمتوں میں کمی آتی جائے گی۔

لڑائی شروع ہونے سے قبل لیبیا ہر روز 16 لاکھ بیرل خام تیل پیدا کرتا تھا جو دنیا میں تیل کی پیداوار کا تقریباً دو فیصد ہے۔

لیبیا میں سیاسی عدم استحکام شروع ہوتے ہی تیل کی پیداوار پر اثر پڑا جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بھی متاثر ہوئی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ لڑائی رکنے کے بعد عالمی بازار میں لیبیا سے ہر روز کم از کم دس لاکھ بیرل تیل آنا شروع ہو جائے گا۔

تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اب لیبیا میں لڑائی ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے لیکن ابھی یہ کہنا مشکل ہوگا کہ ملک میں اسی سطح پر تیل کی پیداوار کتنی جلدی بحال ہو سکے گی جتنی اس جنگ سے پہلے تھی۔

کرنل قذافی کی زندگی پر ایک نظر

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

کرنل قذافی کے بعد کون؟

عبوری انتظامیہ کے سربراہ مصطفی محمد عبدالجلیل

کرنل قذافی کے جانے کے بعد اقتدار کس کے ہاتھ آئے گا؟ کیا باغی اتنے منظم اور باصلاحیت ہیں کہ جنگ زدہ ملک کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرسکیں گے کیا آزاد انتخابات اور ملک کے لیے نیا آئین بھی ان کی ترجیحات ہوں گی۔ تو ایسے میں وہ کون لوگ ہیں جو اقتدار سنبھالنے اور ان چیلنجوں سے نمٹنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لیں گے۔

ماہرین کے نزدیک فی الحال باغیوں کے بارے میں یہی تاثر ہے کہ وہ نظریاتی، سیاسی اور قبائلی اختلافات کا شکار ہیں۔

بغاوت کے چھ ماہ کے دوران باغیوں نے ملک کے جن مشرقی حصوں پر قبضہ کیا وہاں عبوری انتظامیہ قائم کی گئی ہے۔ باغیوں کی عبوری قومی کونسل کی ویب سائٹ کے مطابق وہ اکتیس اراکین پر مشتمل ہے۔ بعض اراکین کے نام ظاہر کیے گئے ہیں جبکہ ادیبہ، کفرا، غہت اور مصراتہ سے آئے اراکین نے فی الحال اپنی شناخت سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پوشیدہ رکھی ہوئی ہے۔ کونسل کی پانچ نشستیں عورتوں جبکہ اتنی ہی نوجوانوں کے لیے رکھی گئی ہیں۔

مصطفی محمد عبدالجلیل

کونسل کی ویب سائٹ کے مطابق عبوری انتظامیہ کے سربراہ یعنی چیئرمین مصطفی محمد عبدالجلیل ہیں۔ مصطفی اس سال لیبیا میں عوامی احتجاج کے آغاز کے بعد فروری میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے خلاف بطور وزیر انصاف احتجاجا مستعفی ہوگئے تھے۔

مشرقی شہر بیدا میں انیس سو باون میں پیدا ہونے والے مصطفی محمد عبدالجلیل نے لیبیا کی یونیورسٹی سے شریعت اور قانون کی تعلیم حاصل کی۔ بحیثیت جج مصطفی حکومت مخالف فیصلے کرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔ وہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کے عدالتی حکم کے باوجود ان کی اسیری کے مخالف بھی تھے۔

عبدالحفیظ گھوگا، وائس چیرمین/ ترجمان

مسٹر گھوگا بن غازی میں مقیم سماجی اور حقوق انسانی کے کارکن ہیں۔ انہیں فروری میں عوامی احتجاج کے آغاز کے فورا بعد گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن چند روز بعد رہا کر دیا گیا۔ وہ لیبیا کی بار ایسوسی ایشن کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو عبوری کونسل کا ترجمان ظاہر کرنے پر شہرت ملی۔ ان کے مقابلے میں مصطفی عبدالجلیل بھی ترجمان ہونے کا دعوی کر رہے تھے۔ انہیں بعد میں وائس چیئرمین اور ترجمان مقرر کر دیا گیا۔

عمر الحریری، عسکری امور

مسٹر حریری ان فوجی افسروں میں سے ایک تھے جو انیس سو انہتر کو کرنل قذافی کو اقتدار میں لانے والی بغاوت میں شامل تھے۔ سابق جنرل کو اختلافات کے بعد قید کر دیا گیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حریری کی تعیناتی سے باغیوں کے درمیان عسکری رابطے بہتر ہوں گے۔

حریری مغربی لیبیا کے فرجان قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں کرنل قذافی کے مضبوط گڑھ سریت کے اردگرد حمایت حاصل ہے۔ ایک انٹرویو میں حریری کا کہنا تھا کہ انہوں نے کرنل قذافی کو جوانی میں گاڑی چلانا سیکھائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ انیس سو انہتر کی بغاوت کے وقت باغیوں کے پاس واضح منصوبہ نہیں تھا اور وہ یہ غلطی اب نہیں دہرانا چاہتے ہیں۔

محمود جبریل، امور خارجہ

بغاوت سے قبل محمود جبریل دیگر دانشوروں کے ساتھ ’لیبیا ویژن‘ نامی منصوبے سے منسلک تھے۔ اس منصوبے کا ہدف جمہوری ریاست کا قیام تھا۔ وہ کونسل کی بحران کمیٹی کے بھی سربراہ ہیں۔ انیس سو باون میں پیدا ہونے والے محمود پولیٹکل سائنس میں ماسٹرز جبکہ فیصلہ سازی کے مضمون میں امریکی یونیورسٹی سے ڈاکٹری کی ڈگری بھی رکھتے ہیں۔وہ امریکہ میں ہی تدریسی شعبے سے بھی منسلک رہے۔ انہوں نے قیادت پر کئی کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔

علی عیساوی، امور خارجہ

مسلار عیساوی اکیس فروری کو بھارت کے سفیر کے طور پر مستعفی ہوگئے تھے۔ علی عیساوی نے رومانیہ سے نجکاری کے موضوع پر ڈاکریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ انہیں دو ہزار چھ میں وزیر خزانہ و نجکاری مقرر کیا گیا۔ سال دو ہزار نو میں کابینہ میں ردوبدل کے بعد انہیں کوئی وزارت نہیں ملی۔

احمدالزبیر احمد السنوسی، سیاسی قیدی

احمد لیبیا کے سب سے لمبے عرصے تک رہنے والے ضمیر کے قیدی تھے۔ کرنل قذافی کے خلاف انیس سو ستر میں بغاوت سازش کے الزام میں اکتیس برس تک جیل میں رہے۔ انہیں اکثر قید تنہائی میں رکھا جاتا تھا۔ انہیں اگست دو ہزار ایک میں رہائی نصیب ہوئی۔

فتحی محمد باجا، بن غازی

امریکہ سے تعلیم حاصل کرنے والے فتحی بن غازی یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے پروفیسر ہیں۔ وہ شہری کونسل کے بھی رکن تھے۔ ان پر خفیہ اداروں نے حکومت مخالف مضامین لکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اٹھاون سالہ فتحی کو یقین ہے کہ آئندہ نسلیں لیبیا میں اصل جمہوریت دیکھ پائیں گی۔ انہوں نے انقلاب کے لیے منشور بھی لکھا ہے جس کے دو اہم نکات قومی اتحاد اور جمہوریت ہیں۔

فتحی تربل صلوا، نوجوان

فتحی نے عوامی احتجاج کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا۔ نوجوان وکیل نے بن غازی میں پرامن احتجاج منعقد کیا تھا۔ انہیں گرفتار کر لیا گیا لیکن جب مظاہرین ان کی رہائی کے لیے تھانے پہنچے تو ان پر پولیس نے گولی چلا دی۔ اس کے بعد بن غازی کے بعد عوامی احتجاج طرابلس بھی پہنچ گیا۔

صلوا الدغیلی، امور خواتین

بن غازی سے تعلق رکھنے والی وکیل صلوا مشرقی لیبیا کے ایک معروف خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے چچا کو حزب مخالف کی سرگرمیوں کی وجہ سے قید کیا گیا تھا۔ انہوں نے بن غازی بار ایسوسی ایشن میں عوامی احتجاج سے قبل اہم کردار ادا کیا۔ بار کے اراکین اصلاحات اور بدعوانی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔

عبوری کونسل کے دیگر اراکین میں قانون کے پروفیسر عبداللہ موسی المیحوب، بن غازی کے تاجر احمد ابد ربوہ الابر، عثمان سلیمان اور اشور حامد براشد شامل ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔