باغیوں کی پیش رفت، تیل کی قیمتوں میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’جیسے جیسے لیبیا کے سیاسی حالات بہتر ہونگے تیل کی قیمتوں میں کمی آتی جائے گی‘

تیل کی قیمتوں میں اس امید کے ساتھ کمی واقع ہوئی ہے کہ لیبیا میں باغی جلدی ہی دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کر لیں گے۔

خام تیل میں ایک عشاریہ آٹھ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ عالمی معیشت کی بحالی سے متعلق خدشات کا اثر ایشیا میں تیل کی قیمتوں پر بھی پڑا ہے جہاں حصص کی قیمتوں میں کمی اور سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

یورپ میں بازارِ حصص میں بہتری آئی ہے اور تیل سے متعلق سیکٹر کے حصص میں تیزی آئی ہے۔

اطالوی تیل کمپنی ای این آئی لیبیا میں خانہ جنگی سے قبل وہاں خاصی متحرک غیر ملکی کمپنی تھی اور اس کے حصص کی قیمتوں میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ بی پی اور شیل کے شیئرز کی قیمتوں میں دو عشاریہ تین فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

بازار میں امید کی جا رہی ہے کہ لیبیا میں لڑائی ختم ہونے کے بعد وہاں سے تیل کی برآمد بحال ہو جائے گی اور عالمی سطح پر سپلائی بھی بہتر ہوگی۔

لیبیا دنیا کا بارھواں سب سے بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے لیبیا کے سیاسی حالات بہتر ہونگے تیل کی قیمتوں میں کمی آتی جائے گی۔

لڑائی شروع ہونے سے قبل لیبیا ہر روز 16 لاکھ بیرل خام تیل پیدا کرتا تھا جو دنیا میں تیل کی پیداوار کا تقریباً دو فیصد ہے۔

لیبیا میں سیاسی عدم استحکام شروع ہوتے ہی تیل کی پیداوار پر اثر پڑا جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بھی متاثر ہوئی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ لڑائی رکنے کے بعد عالمی بازار میں لیبیا سے ہر روز کم از کم دس لاکھ بیرل تیل آنا شروع ہو جائے گا۔

تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اب لیبیا میں لڑائی ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے لیکن ابھی یہ کہنا مشکل ہوگا کہ ملک میں اسی سطح پر تیل کی پیداوار کتنی جلدی بحال ہو سکے گی جتنی اس جنگ سے پہلے تھی۔

اسی بارے میں