’شام میں جاری تشدد پر اہم اجلاس‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر بشارالاشد کا کہنا ہے کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔

اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کی کونسل پیر کے روز جنیوا میں ایک خصوصی اجلاس منعقد کر رہی ہے جس میں شام میں جاری تشدد کے بارے میں بات کی جائے گی۔

توقع ہے کہ کونسل اس اجلاس میں صدر بشارالاسد کے مخالف مظاہرین کے خلاف حکومتی کاروائی پر شام کی حکومت کے خلاف ایک مذمتی قرار داد منظور کرے گی۔

اس ماہ کے اوائل میں اقوامِ متحدہ کے تفتیش کاروں نے شام کی سکیورٹی فورسز پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اتوار کے روز صدر بشارالاسد نے کہا تھا کہ پانچ ماہ سے جاری کشیدگی کے باجود حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

سرکاری ٹیلی وژن پر ایک انٹرویو میں انہوں نے مظاہروں کے خلاف اپنے ردِ عمل کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا کہ شام میں مسئلے کا حل سیاسی ہے لیکن سکیورٹی فورسز کو تشدد کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کثیر الجماعتی نظام متعارف کروانے کے لیے اقدامات کر دیے گئے ہیں اور شاید فروری میں انتخابات بھی کروا دیے جائیں۔

شام میں حکومت مخالف مظاہرے مارچ میں شروع ہوئے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ صدر بشارالاسد عہدہ چھوڑ دیں جن کا خاندان گذشتہ چالیس برس سے ملک کا حکمران ہے۔امریکہ اور کئی یورپی ممالک نے صدر بشارالاسد سے عہدہ چھوڑنے کو کہا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شام میں مارچ سے اب تک دو ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں گرفتار ہوئے ہیں جبکہ شام کی حکومت ملک میں جاری بدامنی کو دہشت گرد گروہوں کی کارروائی قرار دیتی ہے۔

شام کے صدر بشارالاسد نے خبردار کیا ہے کہ ان کے ملک کے خلاف کوئی بھی بین الاقوامی فوجی حملہ اس میں حصہ لینے والوں کے لیے ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ’ شام کے خلاف کسی بھی کارروائی کا نتیجہ ان کی برداشت سے باہر ہوگا۔ اس کی ایک وجہ شام کی جغرافیائی حیثیت ہے اور دوسرا شام کے لوگوں کی صلاحیت‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے مخالفین مسلسل تشدد بڑھا رہے ہیں اور فوج، پولیس اور سکیورٹی فورسزپر حملے کر رہے ہیں۔

بشارالاسد نے کہا کہ ’امریکی صدر براک اوبامہ اور دیگر مغربی رہنماؤں کو اقتدار چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ انہوں نےافغانستان، عراق اور لیبیا میں لوگوں کا خون بہایا ہے اور اس کی وجہ ان کے اپنے ملکوں میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی دیوالیہ پن ہے‘۔

شام میں مظاہروں کے آغاز کے بعد سے صدر بشارالاسد چوتھی مرتبہ عوام کے سامنے آئے ہیں۔

یہ انٹرویو ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ کا ایک وفد ملک میں امدادی ضروریات کا اندازہ لگانے آیا ہے۔ اس وفد کو اجازت ہے کہ وہ ان تمام علاقوں کا دورہ کر سکتے ہیں جہاں کشیدگی ہے۔

صدر بشارالاسد کی جانب سے اس حالیہ یقین دہانی کے باوجود جس کے مطابق شہریوں کے خلاف فوج اور پولیس کی کارروائی روک دی گئی ہے، انسانی حقوق کے کارکنوں کے بیانات اور انٹرنیٹ پر جاری کی جانے والی ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہےکہ زیادہ کچھ بھی نہیں بدلا۔

اسی بارے میں