سٹراس کان کے خلاف مقدمہ خارج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مسٹر ڈومینک سٹراس کان منگل کے روز اپنی اہلیہ آن سِنکلیئر کے ساتھ عدالت میں آئے

نیو یارک کی ایک عدالت نے آئی ایم ایف کے سابق سربراہ ڈومینک سٹراس کان کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ ختم کر دیا ہے۔

مسٹر سٹراس کان کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کا فیصلہ استغاثے کے وکیلوں کے ذہنوں میں ان پر جنسی زیادتی کا الزام لگانے والی خاتون نفیساٹو ڈیالو کی ساکھ کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کی بنیاد کر کیا گیا۔

آئی ایم ایف کے سابق سربراہ پر مجرمانہ جنسی حملے، جنسی زیادتی کی کوشش اور حبسِ بے جا میں رکھنے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

تاہم ان کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ متاثرہ خاتون کے باربار بیانات بدلنے کی وجہ سے کمزور پڑ گیا ہے۔قانون نافذ کرنے والے حکام کے مطابق کہ چودہ مئی کو اس واقعے کے ہونے کے بعد سے ہی الزام لگانے والی خاتون مسلسل جھوٹ بولتی رہی ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گنی سے تعلق رکھنے والی ہوٹل ملازمہ نے امریکہ میں پناہ حاصل کے لیے اپنی درخواست میں بھی دروغ گوئی سے کام لیا تھا۔

اس فیصلے کے معنی یہ ہیں کہ مسٹر ڈومینک سٹراس کان اب مکمل طور پر آزاد ہیں، تاہم انہیں اب بھی نفیساٹو ڈیالو کی طرف سے اسی ماہ سول عدالت میں دائر کیے جانے والے مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

باسٹھ سالہ سٹراس کان کو امریکہ کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے پر ائر فرانس کے طیارے سے اتار کر حراست میں لیا گیا تھا۔ مذکورہ ملازمہ سات سال پہلے نقل مکانی کر کے امریکہ آئی تھیں اور گزشتہ سات سال سے اپنی نوجوان بہن کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

ڈومینیک سٹراس کان فرانس کے سابق وزیرِ خزانہ اور فرانس کے ممتاز سوشلسٹ سیاست دان ہیں جنہیں اس واقعے سے قبل ملک کی صدارت کے لیے ایک ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

اسی بارے میں