’جوہری پروگرام پر بات ممکن‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات موسکو کے مشرق میں سائبیریا کے ایک پہاڑی مقام پر ہوئی

روس کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر دوبارہ مذاکرات کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

یہ بات روسی صدر دمتری میدیادوف کے ترجمان نے شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اِل کے روس کے دورے کے دوران دونوں رہماؤں کے ملاقات کے بعد کہی ہے۔

ماسکو میں جنوبی کوریا کے رہنما کِم جونگ اِل اور روس کے صدر دمتری میدویادوف کی ملاقات میں اقتصادی تعاون کے علاوہ جنوبی کوریا کے جوہری پروگرام پر بھی زیر بات ہوئی۔

روسی ذارائع ابلاغ کے مطابق کم جونگ اِل کا کہنا تھا کہ ان کا ملک جوہری تجربے ختم کرنے کے پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے بشرطہ کہ جوہری عدم پھیلاؤ پر چھ فریقی مذاکرات بحال کیے جائیں۔

شمالی کوریا نے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے لیکن روسی صدر کے ذریعے یہ عالمی برداری کے لیے ایک پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ کِم جونگ اِل کا روس کا سنہ 2002 کے بعد پہلا دورہ ہے

شمالی کوریا کے اس دورے کا مقصد گیس کی پائپ لائن سے متعلق منصوبے پر بات چیت کرنا ہے۔ یہ پائپ لائن شمالی کوریا کے علاقوں سے گزر کر جنوبی کوریا میں جائے گی۔روس کی کمپنی ’گیس پرام‘ کچھ عرصے سے اس منصوبے کو آگے بڑھانے پر کام کرتی رہی ہے اور اس سے مالی مشکلات کا شکار شمالی کوریا کو ٹرارانزٹ ہینڈلنگ فیز کی شکل میں سالانہ دس کروڑ ڈالر کی آمدنی ہو سکے گی۔

لیکن اس منصوبے پر جنوبی کوریا کو خاصی تشویش ہے کیونکہ اگر یہ عمل میں آیا تو شمالی کوریا کو جنوب کی گیس سپلائی پر کنٹرول حاصل ہو سکے گا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ماسکو کے مشرق میں سائبیریا کے ایک پہاڑی مقام پر ہوئی۔ مسٹر کِم کا یہ روس کا سنہ دو ہزار دو کے بعد پہلا دورہ ہے۔ اس دورے سے پہلے روس نے شمالی کوریا کو پچاس ہزار ٹن گندم فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ۔ شمالی کوریا کی بڑھتی ہوئی اقتصادی مشکلات کے پیش نظر جنوبی کوریا اب امداد اور سرمایہ کاری کی تلاش میں ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق کم جونگ اِل کے چین کے حالیہ دورہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے اور شائد یہی وجہ ہے کہ وہ اب روس سے اپنے تعلقات بڑھا کر عالمی برادری سے بھی اپنی دوریاں ختم کرنا چاہ رہا ہے۔ اور پیونگیانگ کے جوہری پروگرام پر بات چیت پر رضامندی ظاہر کرنا شاید اس سلسے کا اہم قدم ہو۔

اسی بارے میں