آخری وقت اشاعت:  جمعرات 25 اگست 2011 ,‭ 13:03 GMT 18:03 PST

باغیوں کا طرابلس پر کنٹرول، سرت کی جانب پیشقدمی

لیبیا میں باغیوں نے دارالحکومت طرابلس کے زیادہ تر حصوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب ان کی پیش قدمی معمر قذافی کے آبائی علاقے سرت کی جانب ہے۔

لیبیا کے باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر کرنل قذافی کے قریبی ساتھیوں میں سے کوئی ان کی گرفتاری یا ہلاکت میں مدد فراہم کرتا ہے تو اسے سترہ لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا اور اسے عام معافی ہو گی۔ اس سے پہلے کرنل قذافی نے نامعلوم مقام سے ایک مقامی ٹیلویژن پر نشر ہونے والے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ آخری دم تک لڑیں گے۔

سرت کی جانب پیشقدمی

لیبیا میں باغیوں نے دارالحکومت طرابلس کے زیادہ تر حصوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب ان کی پیش قدمی معمر قذافی کے آبائی علاقے سرت کی جانب ہے۔

اطلاعات کے مطابق باغیوں کو سرت کی جانب پیش قدمی میں تقیباً ایک ہزار قذافی کے حامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حامیوں کے ساتھ جھڑپ میں بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا۔ باغیوں نے اس لڑائی کے لیے مزید کمک منگوا لی ہے۔

دوسری جانب لیبیا کی فوج کا سرت اور سبھا کے ریگستان پر مکمل کنٹرول ہے۔

باغیوں کی سرت کی جانب پیش قدمی میں ان کو بن جواد کے علاقے میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

باغیوں کے کمانڈر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’قذافی کی فوج ابھی بھی لڑ رہی ہے اور ہمیں اس بات کی کافی حیرت ہے۔ہمارا خیال تھا کہ سقوطِ طرابلس کے بعد وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔‘

یاد رہے کہ بدھ کو باغیوں نے کرنل قذافی کے ہیڈ کوارٹر باب العزیزیہ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

ٹی وی پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں باغیوں کو کرنل قذافی کے مجسمے کا سر تن سے جدا کرتے اور اسے ٹھوکریں مارتے دکھایا گیا تھا۔

کرنل قذافی کی حامی افواج کا ابھی تک ان کے آبائی شہر سرت اور جنوبی لیبیا میں کئی اہم اڈوں پر قبصہ ہے۔

اٹلی نے لیبیا کے منجمد کیے گئے اثاثوں کو بحال کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اور ان اثاثوں تک باغیوں کو رسائی دے دی ہے۔

ملان میں باغیوں کے سربراہ محمود جبریل سے ملاقات کے بعد اطالوی وزیر اعظم نے کہا کہ پانچ سو ملین ڈالر کو بحال کردیا جائے گا۔

محمود جبریل نے کہا کہ لیبیا کے باغیوں کو اس وقت مالی امداد کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو سہولیات اور تنخواہیں دی جا سکیں۔

اس سے قبل عرب لیگ نے بھی باغیوں کو لیبیا کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔

قذافی کے سر قیمت سترہ لاکھ ڈالر

لیبیا کے باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر کرنل قذافی کے قریبی ساتھیوں میں سے کوئی ان کی گرفتاری یا ہلاکت میں مدد فراہم کرتا ہے تو اسے سترہ لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا اور اسے عام معافی ہو گی۔

اگرچہ کرنل قذافی کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں، تاہم باغیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں وہ ابھی تک طرابلس یا اس کے گردو نواع میں ہیں۔

کرنل قذافی کی گرفتاری یا ہلاکت میں مدد پر عام معافی کا اعلان بدھ کے روز لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے بنغازی میں کیا۔

اعلان میں انہوں نے کہا کہ جب تک کرنل قذافی گرفتار یا ہلاک نہیں ہو جاتے اس وقت تک ان کی افواج اور ان کے حامی مزاحمت ترک نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عبوری کونسل بزنس مینوں کے ایک گروپ کی جانب سے ان کی گرفتاری یا ہلاکت پر اعلان کیے جانے والے سترہ لاکھ ڈالر کے انعام کی پیش کش کی بھی حمایت کرتی ہے۔

بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار کے مطابق طرابلس پر حملے میں باغیوں کو نیٹو کی فضائی امداد نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ نامہ نگار کےمطابق نیٹو افواج نے’عوام کے تحفظ‘ کے لیے جس انداز میں کارروائی کی ہے اس سے اس موقف کو تقویت ملےگی کہ نیٹو نے اقوام متحدہ کی قرارداد سے تجاوز کیا ہے۔.

ادھر طرابلس پر قبضے کی لڑائی زوروں پر ہے اور باغیوں نے کرنل قذافی کے ہیڈ کوارٹر باب العزیزیہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ تاہم اب بھی انہیں کئی مقامات پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ٹی وی پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں باغیوں کو کرنل قذافی کے مجسمے کا سر تن سے جدا کرتے اور اسے ٹھوکریں مارتے دکھایا گیا ہے۔

کرنل قذافی کی حامی افواج کا ابھی تک ان کے آبائی شہر سرت اور جنوبی لیبیا میں کئی اہم اڈوں پر قبصہ ہے۔

دوسری طرف کرنل قذافی نے ایک مقامی ٹی وی سٹیشن پر خطاب کیا ہے۔ اپنے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ نیٹو سے خلاف فتح مند ہوں گے یا پھر ’شہادت‘ کی راہ اختیار کریں گے۔

کرنل معمر قذافی نے کہا کہ انہوں نے باب العزیزیہ کو خالی کرنے کی فیصلہ ایک حکمتِ عملی کے تحت کیا۔ انہوں نے کہا کہ باب العزیزیہ پہلے ہی نیٹو کے چونسٹھ حملوں کے بعد ملبے کا ایک ڈھیر بن چکا تھا۔

قذافی حکومت کے حامی ٹی وی سٹیشن العروبہ نے حکومتی ترجمان موسی ابراہیم سے ایک براہِ راست انٹرویو بھی نشر کیا جس میں انہوں نے باب العزیزیہ کو خالی کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ لیبیا حملہ آوروں کے لیے ابلتا ہوا لاوہ اور ان کے پاؤں تلے دہکتی ہوئی آگ کی شکل اختیار کر لے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ لیبیا کی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے کہا ہے کہ چار دنوں کی لڑائی میں چھ سو افراد ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے فرانسیسی ٹی وی چینل فرانس 24 کو بتایا کہ اب تک باغیوں نے چھ سو قذافی کے حامی فوجیوں کو گرفتار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جب تک کرنل معمر قذافی کو گرفتار نہ کیا گیا اس وقت تک جنگ جاری رہے گی۔

’کرنل قذافی کے دن پورے‘

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ طرابلس پر حملہ جاری ہے اور لیبیا کے حکمران کے دن گنے جا چکے ہیں۔ صدر اوباما نے کہا کہ معمر قذافی کو اس بات کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ اب ملک پر ان کا کنٹرول نہیں ہے اور انہیں اقتدار ہمیشہ کے لیے چھوڑنا ہی ہوگا۔

نیٹو کی ایک ترجمان نے بھی کہا ہے کہ کرنل قدافی کی حکومت گر رہی ہے اور انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا اب طرابلس میں سکیورٹی کی بحالی میں مدد ان کی خاص ترجیح ہوگی۔ انہوں نے لیبیا میں باغیوں سے اپیل کی کہ وہ انتقامی کارروائیاں نہ کریں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے گریز کریں۔

اس کے علاوہ جنوبی افریقہ نے ان افواہوں کی تردید کر دی ہے کہ اس نے کرنل قذافی کو نکالنے کے لیے کوئی طیارہ بھیجا ہے۔

فرانس کے صدر نکولا سارکوزی کا کہنا ہے کہ لیبیا فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے جبکہ برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ کرنل قذافی کا کھیل ختم ہونے والا ہے اور وہ اقتدار چھوڑ کر عوام کی تکالیف کو کم کر دیں۔

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں جو باغیوں کا گڑھ ہے لوگ اس امید پر جشن منا رہے ہیں کہ کرنل قذافی کے اقتدار کا خاتمہ ہونے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بصورت دیگر فرانسیسی غاصبین اور برطانوی سامراج واپس آ جائے گا۔ اس سے قبل اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ طرابلس نہیں چھوڑیں گے اور آخر تک یہیں رہیں گے۔

درالحکومت طرابلس میں کرنل معمر قذافی کی رہائش گاہ کے قرب و جوار سمیت متعدد مقامات پر سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جبکہ کرنل قذافی کے جانشین سمجھے جانے والے بیٹے سیف الاسلام کے بعد ان کے دوسرے بیٹے کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

کرنل قذافی کی زندگی پر ایک نظر

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

کرنل قذافی کے بعد کون؟

عبوری انتظامیہ کے سربراہ مصطفی محمد عبدالجلیل

کرنل قذافی کے جانے کے بعد اقتدار کس کے ہاتھ آئے گا؟ کیا باغی اتنے منظم اور باصلاحیت ہیں کہ جنگ زدہ ملک کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرسکیں گے کیا آزاد انتخابات اور ملک کے لیے نیا آئین بھی ان کی ترجیحات ہوں گی۔ تو ایسے میں وہ کون لوگ ہیں جو اقتدار سنبھالنے اور ان چیلنجوں سے نمٹنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لیں گے۔

ماہرین کے نزدیک فی الحال باغیوں کے بارے میں یہی تاثر ہے کہ وہ نظریاتی، سیاسی اور قبائلی اختلافات کا شکار ہیں۔

بغاوت کے چھ ماہ کے دوران باغیوں نے ملک کے جن مشرقی حصوں پر قبضہ کیا وہاں عبوری انتظامیہ قائم کی گئی ہے۔ باغیوں کی عبوری قومی کونسل کی ویب سائٹ کے مطابق وہ اکتیس اراکین پر مشتمل ہے۔ بعض اراکین کے نام ظاہر کیے گئے ہیں جبکہ ادیبہ، کفرا، غہت اور مصراتہ سے آئے اراکین نے فی الحال اپنی شناخت سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پوشیدہ رکھی ہوئی ہے۔ کونسل کی پانچ نشستیں عورتوں جبکہ اتنی ہی نوجوانوں کے لیے رکھی گئی ہیں۔

مصطفی محمد عبدالجلیل

کونسل کی ویب سائٹ کے مطابق عبوری انتظامیہ کے سربراہ یعنی چیئرمین مصطفی محمد عبدالجلیل ہیں۔ مصطفی اس سال لیبیا میں عوامی احتجاج کے آغاز کے بعد فروری میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے خلاف بطور وزیر انصاف احتجاجا مستعفی ہوگئے تھے۔

مشرقی شہر بیدا میں انیس سو باون میں پیدا ہونے والے مصطفی محمد عبدالجلیل نے لیبیا کی یونیورسٹی سے شریعت اور قانون کی تعلیم حاصل کی۔ بحیثیت جج مصطفی حکومت مخالف فیصلے کرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔ وہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کے عدالتی حکم کے باوجود ان کی اسیری کے مخالف بھی تھے۔

عبدالحفیظ گھوگا، وائس چیرمین/ ترجمان

مسٹر گھوگا بن غازی میں مقیم سماجی اور حقوق انسانی کے کارکن ہیں۔ انہیں فروری میں عوامی احتجاج کے آغاز کے فورا بعد گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن چند روز بعد رہا کر دیا گیا۔ وہ لیبیا کی بار ایسوسی ایشن کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو عبوری کونسل کا ترجمان ظاہر کرنے پر شہرت ملی۔ ان کے مقابلے میں مصطفی عبدالجلیل بھی ترجمان ہونے کا دعوی کر رہے تھے۔ انہیں بعد میں وائس چیئرمین اور ترجمان مقرر کر دیا گیا۔

عمر الحریری، عسکری امور

مسٹر حریری ان فوجی افسروں میں سے ایک تھے جو انیس سو انہتر کو کرنل قذافی کو اقتدار میں لانے والی بغاوت میں شامل تھے۔ سابق جنرل کو اختلافات کے بعد قید کر دیا گیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حریری کی تعیناتی سے باغیوں کے درمیان عسکری رابطے بہتر ہوں گے۔

حریری مغربی لیبیا کے فرجان قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں کرنل قذافی کے مضبوط گڑھ سریت کے اردگرد حمایت حاصل ہے۔ ایک انٹرویو میں حریری کا کہنا تھا کہ انہوں نے کرنل قذافی کو جوانی میں گاڑی چلانا سیکھائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ انیس سو انہتر کی بغاوت کے وقت باغیوں کے پاس واضح منصوبہ نہیں تھا اور وہ یہ غلطی اب نہیں دہرانا چاہتے ہیں۔

محمود جبریل، امور خارجہ

بغاوت سے قبل محمود جبریل دیگر دانشوروں کے ساتھ ’لیبیا ویژن‘ نامی منصوبے سے منسلک تھے۔ اس منصوبے کا ہدف جمہوری ریاست کا قیام تھا۔ وہ کونسل کی بحران کمیٹی کے بھی سربراہ ہیں۔ انیس سو باون میں پیدا ہونے والے محمود پولیٹکل سائنس میں ماسٹرز جبکہ فیصلہ سازی کے مضمون میں امریکی یونیورسٹی سے ڈاکٹری کی ڈگری بھی رکھتے ہیں۔وہ امریکہ میں ہی تدریسی شعبے سے بھی منسلک رہے۔ انہوں نے قیادت پر کئی کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔

علی عیساوی، امور خارجہ

مسلار عیساوی اکیس فروری کو بھارت کے سفیر کے طور پر مستعفی ہوگئے تھے۔ علی عیساوی نے رومانیہ سے نجکاری کے موضوع پر ڈاکریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ انہیں دو ہزار چھ میں وزیر خزانہ و نجکاری مقرر کیا گیا۔ سال دو ہزار نو میں کابینہ میں ردوبدل کے بعد انہیں کوئی وزارت نہیں ملی۔

احمدالزبیر احمد السنوسی، سیاسی قیدی

احمد لیبیا کے سب سے لمبے عرصے تک رہنے والے ضمیر کے قیدی تھے۔ کرنل قذافی کے خلاف انیس سو ستر میں بغاوت سازش کے الزام میں اکتیس برس تک جیل میں رہے۔ انہیں اکثر قید تنہائی میں رکھا جاتا تھا۔ انہیں اگست دو ہزار ایک میں رہائی نصیب ہوئی۔

فتحی محمد باجا، بن غازی

امریکہ سے تعلیم حاصل کرنے والے فتحی بن غازی یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے پروفیسر ہیں۔ وہ شہری کونسل کے بھی رکن تھے۔ ان پر خفیہ اداروں نے حکومت مخالف مضامین لکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اٹھاون سالہ فتحی کو یقین ہے کہ آئندہ نسلیں لیبیا میں اصل جمہوریت دیکھ پائیں گی۔ انہوں نے انقلاب کے لیے منشور بھی لکھا ہے جس کے دو اہم نکات قومی اتحاد اور جمہوریت ہیں۔

فتحی تربل صلوا، نوجوان

فتحی نے عوامی احتجاج کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا۔ نوجوان وکیل نے بن غازی میں پرامن احتجاج منعقد کیا تھا۔ انہیں گرفتار کر لیا گیا لیکن جب مظاہرین ان کی رہائی کے لیے تھانے پہنچے تو ان پر پولیس نے گولی چلا دی۔ اس کے بعد بن غازی کے بعد عوامی احتجاج طرابلس بھی پہنچ گیا۔

صلوا الدغیلی، امور خواتین

بن غازی سے تعلق رکھنے والی وکیل صلوا مشرقی لیبیا کے ایک معروف خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے چچا کو حزب مخالف کی سرگرمیوں کی وجہ سے قید کیا گیا تھا۔ انہوں نے بن غازی بار ایسوسی ایشن میں عوامی احتجاج سے قبل اہم کردار ادا کیا۔ بار کے اراکین اصلاحات اور بدعوانی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔

عبوری کونسل کے دیگر اراکین میں قانون کے پروفیسر عبداللہ موسی المیحوب، بن غازی کے تاجر احمد ابد ربوہ الابر، عثمان سلیمان اور اشور حامد براشد شامل ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔