ڈومینک سٹراس کان کا پاسپورٹ واپس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption باسٹھ سالہ ڈومینک سٹراس کان کا کہنا ہے کہ وہ فرانس واپسی کے لیے بے چین ہیں۔

نیو یارک کی ایک عدالت میں جنسی زیادتی کا مقدمہ ختم ہونے کے بعد آئی ایم ایف کے سابق سربراہ کو ان کا پاسپورٹ واپس مل گیا۔

باسٹھ سالہ ڈومینک سٹراس کان کا کہنا ہے کہ وہ فرانس واپسی کے لیے بے چین ہیں۔

مئی میں نیویارک کے ایک ہوٹل کی ملازمہ کی طرف سے جنسی زیادتی کے الزام کے بعد سے مسٹر سٹراس کان بہت کڑی شرائط کے تحت ضمانت پر تھے۔

اسی ہفتے نیو یارک کی ایک عدالت نے آئی ایم ایف کے سابق سربراہ ڈومینک سٹراس کان کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ ختم کر دیا تھا۔

تاہم انہیں اب بھی ہوٹل ملازمہ نفیساٹو ڈیالو کی طرف سے سول عدالت میں دائر کیے جانے والے مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مسٹر سٹراس کان کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کا فیصلہ استغاثے کے وکیلوں کے ذہنوں میں ان پر جنسی زیادتی کا الزام لگانے والی خاتون نفیساٹو ڈیالو کی ساکھ کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کی بنیاد پر کیا گیا۔

آئی ایم ایف کے سابق سربراہ پر مجرمانہ جنسی حملے، جنسی زیادتی کی کوشش اور حبسِ بے جا میں رکھنے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

تاہم ان کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ متاثرہ خاتون کے باربار بیانات بدلنے کی وجہ سے کمزور پڑ گیا ہے۔قانون نافذ کرنے والے حکام کے مطابق کہ چودہ مئی کو اس واقعے کے ہونے کے بعد سے ہی الزام لگانے والی خاتون مسلسل جھوٹ بولتی رہی ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گنی سے تعلق رکھنے والی ہوٹل ملازمہ نے امریکہ میں پناہ حاصل کے لیے اپنی درخواست میں بھی دروغ گوئی سے کام لیا تھا۔

باسٹھ سالہ سٹراس کان کو امریکہ کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے پر ائر فرانس کے طیارے سے اتار کر حراست میں لیا گیا تھا۔ مذکورہ ملازمہ سات سال پہلے نقل مکانی کر کے امریکہ آئی تھیں اور گزشتہ سات سال سے اپنی نوجوان بہن کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

ڈومینیک سٹراس کان فرانس کے سابق وزیرِ خزانہ اور فرانس کے ممتاز سوشلسٹ سیاست دان ہیں جنہیں اس واقعے سے قبل ملک کی صدارت کے لیے ایک ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

اسی بارے میں