طرابلس کے ہسپتال سے گلی سڑی لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گزشتہ دو روز سے لڑائی کا مرکز ابو سلیم کا علاقے ہے

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں دو سو سے زائد مردوں، عورتوں اور بچوں کی لاشیں ایک ہسپتال میں گل سڑ رہی ہیں جہاں کا عملہ لڑائی شروع ہونے کے بعد وہاں سے چلا گیا ہے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے یہ لاشیں طرابلس کے علاقے ابو سلیم کے ایک ہسپتال میں دیکھیں۔

علاقے کے کچھ رہائشیوں نے الزام لگایا کہ کرنل معمر قذافی کے حامی فوجیوں نے ہسپتال میں زیر علاج ان افراد کو ہلاک کیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان افراد کی موت کیسے ہوئی۔

بی بی سی کے نامہ نگار ویرا ڈیوس کا کہنا ہے کہ اس نے ابوسلیم ہسپتال میں جو ہیبت ناک اور دل دہلا دینے والا منظر دیکھا ہے وہ اس نے اس سے پہلے زندگی بھر نہیں دیکھا تھا۔

نامہ نگار کے مطابق ہسپتال کے برآمدوں اور ٹرالیوں پر مردوں، عورتوں اور بچوں کی سینکڑوں لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ کن کی لاشیں ہیں لیکن ان میں سے کچھ عام شہری، کچھ جنگجو اور افریقہ کے دیگر ملکوں سے آئے ہوئے کرایہ کے قاتل دکھائی دیتے ہیں۔

علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ افراد کو زخمی حالت میں وہاں لایا گیا تھا جبکہ کچھ پہلے ہی مر چکے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز اس ہسپتال پر قذافی کے حامی بندوق برداروں کا کنٹرول تھا جو جمعرات کو باغیوں کے حملے کے بعد ختم ہوا۔

ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ لاشیں ہسپتال میں پانچ روز سے پڑی ہیں اور ابھی تک کوئی بھی ان کی شاخت، انہیں مردہ خانے منتقل کرنے یا انہیں دفنانے نہیں آیا ہے۔

ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ یہ بہت ہنگامی صورتِ حال ہے۔ حکومت کا کہہیں نام و نشان تک نہیں ہے۔ ہمیں ہلال احمر سے پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت ہے کیونکہ ابو سلیم کے ہسپتال میں قتل عام ہوا ہے۔‘

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لاشوں سے اٹھنے والی بدبو اتنی زیادہ ہے کہ وہاں پر ٹھہرنا مشکل ہے۔ ’کچھ لوگ وہاں صفائی کر کے ہسپتال کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن لاشوں کی اتنی زیادہ تعداد کی وجہ سے ایسا کرنا ناممکن ہے۔

اسی بارے میں