’آئرین‘ امریکی ساحلوں سے ٹکرا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی صدر براک اوباما نے خبردار کیا ہے کہ آئرین تاریخی طوفان ہو سکتا ہے۔

امریکہ کے مشرقی ساحل سمندری طوفان ’آئرین‘ امریکی ریاست شمالی کیرولینا کے بعد اب ریاست نیویارک کے ساحل سے ٹکرا گیا ہے۔

مقامی آبادی نے ریاست نیویارک کے مختلف علاقوں سے تیز ہواؤں، موسلادھار بارش اور آسمانی بجلی کڑکنے کی اطلاعات دی ہیں۔

امریکہ میں طوفان ’آئرین‘ کا اثر: تصاویر

اندازہ ہے کہ چندگھنٹے کے اندر نیویارک میں طوفان اپنی سب سے زیادہ شدت پر ہوگا تاہم شہر کے میئر کا کہنا ہے کہ اب انخلاء کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے اس لیے جو لوگ اب تک نشیبی علاقے چھوڑ کر نہیں گئے وہ اب اپنے گھروں میں ہی رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سات ساحلی ریاستوں میں پہلے ہی ہنگامی حالت نافذ کی جا چکی ہے

نیویارک کے میئر نے تقریباً ڈھائی لاکھ افراد کو شہر کے نشیبی علاقے چھوڑنے کی ہدایت کی تھی جبکہ شہر کا ٹرانسپورٹ کا نظام بند کیا جا چکا ہے۔

طوفان کے نتیجے میں اب تک شمالی کیرولینا، ورجینیا اور فلوریڈا کی ریاستوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ طوفان امریکہ کے مشرقی سمندر میں اٹھا ہے اور اس سیزن کا پہلا طوفان ہے جسے انتہائی طاقتور قرار دیا جا رہا ہے۔

شمالی کیرولینا اور ورجینیا میں طوفان کے ٹکرانے کے بعد بجلی منقطع ہوگئی ہے جس سے چھ لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ طوفان اور شدید بارشوں کے باعث کئی علاقوں پانی کی سطح گیارہ فٹ تک پہنچ چکی ہے۔

پانچ سو میل چوڑا یہ طوفان اب امریکہ کے مشرقی ساحل پر واقع دیگر علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے اور طوفان کے پیشِ نظر مشرقی ساحلی علاقوں میں بیس لاکھ سے زیادہ افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

شدید طوفان کے پیشِ نظر شمالی کیرولینا سے کنیکٹیکٹ تک سات ساحلی ریاستوں میں پہلے ہی ہنگامی حالت نافذ کی جا چکی ہے۔اونچی سمندری لہریں اور تیز ہواؤوں کے باعث دو لاکھ افراد پہلے ہی شمالی کیرولینا چھوڑ گئے تھے۔

امریکی صدر براک اوباما نے خبردار کیا ہے کہ آئرین تاریخی طوفان ہو سکتا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ بحر اوقیانوس میں موسم کے پہلے طوفان کے راستے سے احتیاطی تدابیر کے طور پر ہٹ جائیں۔

براک اوباما نے کہا ’انتظار نہ کریں، دیر نہ کریں۔ ہمیں اچھے کی امید کرنی چاہیے لیکن بدتر کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہم سب کو اس طوفان کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘

طوفان کے پیشِ نظر صدر اوباما اپنی چھٹیاں ختم ہونے سے ایک روز قبل ہی واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ طوفان امریکہ کے مشرقی سمندر میں اٹھا ہے

نیشنل ہریکین سینٹر نے طوفان کی شدت کو کم کر کے دوسرے زمرے سے پہلے زمرے میں کر دیا ہے تاہم اب بھی اس کا کہنا ہے کہ یہ ایک طاقتور طوفان ہے۔ اس کے مطابق، ہوائیں ایک سو تیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں جن کی رفتار بڑھ کر ساڑھے چار سو کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا سکتی ہے۔

نیویارک سمیت امریکہ کے شمال مشرق میں سمندری طوفانوں کی تاریخ نہ ہونے کے برابر ہے اور مقامی میڈیا کے مطابق اس علاقے میں آخری سمندری طوفان اٹھارہ سو اسّی کی دہائی میں آیا تھا جس میں چھ سو لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ٹیکنالوجی اور شہری سہولیات اور پیشگی تنبیہی سسٹم مفقود تھے اور اسی لیے اتنی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں