لیبیا: بان کی مون کی لڑائی بند کرنے کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption باغی سرت پر چڑھائی کرنے کے لیے تیاری کررہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے اپیل کی ہے کہ لیبیا میں لڑائی بند کی جائے جبکہ بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ وہ مل کر لیبیا میں نظم و نسق کی بحالی کے لیے کام کریں۔

سکریٹری جنرل نے کہا کہ لیبیا کا بحران اب اپنے ’نئے اور فیصلہ کن مرحلے‘ میں داخل ہوگیا ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ لیبیا میں اقتدار کی منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے بعد بان کی مون نے کہا ’اب اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ وہاں تنازع کا خاتمہ ہو اور امن بحال ہو۔ فوری طور پر ہم نے انسانی امداد کی اپیل کی ہے خاص طور پر طبی اور بنیادی سہولیات کے لیے جن میں صاف پانی، نکاسی اور تعلیم شامل ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مزید اقدامات میں ملک میں انتخابات کا انعقاد، پولیس اور عدلیہ کی تبدیلی، معاشرتی اور معاشی بحالی کے لیے امداد، قانون کی حکمرانی اور اداروں کا استحکام شامل ہیں۔

بان کی مون نے افریقی یونین اور لیبیا کی منتقلئ اقتدار کی کونسل کے درمیان بہتر تعلقات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ افریقی یونین نے اب تک لیبیا میں منتقلئ اقتدار کی قومی کونسل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اس بات کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے کہ انہوں نے لیبیا میں پولیس کی صلاحیت میں اضافے کے لیے بھی مدد فراہم کرنا ہے کیونکہ ملک میں چھوٹے اسلحہ کی بھرمار ہو چکی ہے۔

حالیہ دنوں میں طرابلس اور اس کے گرد و نواح میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ جمعہ کو ایک ہسپتال سے دو سو سے زیادہ گلی سڑی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے طرابلس پر مکمل تسلط قائم کرلیا ہے جبکہ شہر کے مشرقی علاقوں میں اب بھی لڑائی جاری ہے۔

ملک میں ایندھن، خوراک اور طبی سامان کی قلت میں اضافہ ہورہا ہے۔

طرابلس میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اطراف لڑائی جاری ہے تاہم شہر کا مرکزی حصہ کافی پرسکون ہے۔

طرابلس پر باغیوں کے قبضہ کے بعد پہلی بار لوگ بڑی تعداد میں جمعہ کی نماز پڑھنے مساجد میں گئے۔

شہر میں کئی جگہوں پر بجلی کی تاریں کٹی ہوئی ہیں جبکہ پانی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہے تاہم پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی پر واپس آنا شروع ہوگئے ہیں اور دوکانیں اور بازار بھی کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔

سرت کی جانب پیش قدمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption باغیوں کا اگلا ہدف کرنل قذافی کا مضبوط گڑھ سمجھا جانے والا شہر سرت ہے۔

طرابلس سے باہر سرت کی جانب پیش قدمی کے دوران باغیوں کی فورسز کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ سرت کرنل قذافی کی جائے پیدائش ہے اور یہ شہر اب بھی قذافی کا ایک مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

باغیوں کے کمانڈروں نے کہا کہ وہ سرت کے قریب سے پیچھے ہٹنے کے بعد تیل پیدا کرنے والے شہر راس لانوف میں اپنے ہراول دستے کو مستحکم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیچھے ہٹنے کا مقصد کرنل قذافی کی حامی فوجوں کے راکٹوں کی پہنچ سے دور ہونا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، طرابلس میں باغیوں کے کمانڈر عبدالحکیم بالحاج نے اعلان کیا ہے کہ عبوری اقتدار کے دوران باغیوں کے تمام گروہوں کو ایک کمانڈ کے تحت لایا جائے گا۔

کرنل قذافی کی حکومت گرنے کے بعد خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ باغیوں میں گروہ بندی ہو سکتی ہے جس کے بعد تنازعات پیدا ہوسکتے ہیں۔

برطانوی امداد کا اعلان

برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ لیبیا میں لڑائی سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے انسانی بنیادوں پر فوری امداد مہیّا کرے گا۔

برطانوی امداد میں طبی ساز و سامان اور خوراک شامل ہے جو وہ ریڈ کراس کے ذریعے فراہم کرے گا۔

لیبیا میں لڑائی کے دوران تتر بتر ہوجانے والے خاندانوں کو دوبارہ ملانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

برطانیہ میں بین الاقوامی امداد کے وزیر نے کہا ہے کہ برطانوی امداد ان فلاحی اداروں کی مدد کرے گی جو وہاں غیر معمولی کام کررہے ہیں۔

برطانیہ جو خوراک اور بنیادی اشیاء فراہم کرے گا وہ سات لاکھ افراد کے لیے کافی ہوں گی جبکہ طبی ٹیمیں اور جراحی کا ساز و سامان تقریباً پانچ ہزار زخمیوں کو علاج معالجہ کی سہولیات بہم پہنچا سکے گا۔

لیبیا کے مرکزی بینک میں منجمد ایک ارب پاؤنڈ کو غیر منجمد کرنے کے لیے برطانیہ اقوامِ متحدہ سے رابطے میں ہے۔ برطانوی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اس رقم سے وہاں تنخواہیں ادا کی جا سکیں گی جبکہ دوائیں اور خوراک بھی خریدی جا سکے گی۔

اسی بارے میں