’شام میں سیاسی استحکام خطے کے لیے ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عرب لیگ کے سکریٹری جنرل نبیل العربی شام جائیں گے۔

شام میں جاری بحران کے خاتمے پر بات چیت کے لیے عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی شام کا دورہ کر رہے ہیں۔

یہ اعلان مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب وزراء خارجہ کے ایک اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔

وزراء خارجہ نے شام کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں تشدد کو ختم کرے اور اصلاحات متعارف کرائے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مارچ کے مہینے میں مظاہروں کے آغاز سے اب تک دو ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

قاہرہ میں بی بی سی کی بیتھنی بیل کا کہنا ہے کہ عرب لیگ دمشق پر دباؤ بڑھا رہی ہے تاہم اس نے شام کی رکنیت کو معطل نہیں کیا ہے جیسا کہ اس نے اس سال کے شروع میں لیبیا کی رکنیت کو معطل کردیا تھا۔

عرب لیگ سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزراء خارجہ نے عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ایک مشن دمشق روانہ کریں اور شام کی قیادت تک بحران حل کرنے کے لیے عربوں کے عزم کو پہنچائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ شام کے عوام کے حقوق کا احترام کیا جائے اور ان کے سیاسی اور معاشی اصلاحات کے قانونی مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عرب لیگ کا کہنا ہے کہ شام میں استحکام پورے خطے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

عرب لیگ کا کہنا ہے کہ شام میں استحکام پورے خطے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

اس سے قبل، شام میں سیاسی کارکنوں نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے ایک مسجد میں مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز الرفاعی مسجد میں داخل ہوئیں اور مبینہ طور پر مسجد کے امام کو زخمی کردیا۔

مسجد میں بنائی گئی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ مظاہرین نعرے بازی کر رہے ہیں اور حکومت کے خاتمہ اور صدر اسد کی پھانسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ دوبارہ جیسے ہی سکیورٹی فورسز مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں تو مظاہرین انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تقریباً اسی سالہ امام مسجد اسامہ الرفاعی کو اطلاعات کے مطابق زد و کوب کیا گیا۔

اکثر غیر ملکی صحافیوں کو شام میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے جس کے باعث مقامی ذرائع سے حاصل کی جانے والی خبروں کی تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں