اقتدار کی منتقلی، قذافی بات چیت پر تیار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption باغیوں کے مطابق کرنل قذافی ملک میں ہی کہیں روپوش ہیں

لیبیائی رہنما کرنل قذافی کے ایک ترجمان کے مطابق وہ اقتدار کی منتقلی پر بات چیت شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ترجمان نے ایک خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بات چیت میں قیادت کرنل قذافی کے بیٹے سعدی کریں گے۔

لیبیا: بان کی مون کی لڑائی بند کرنے کی اپیل

باغیوں کے مطابق انھوں نے دارالحکومت طرابلس سمیت ملک کے زیادہ تر علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جبکہ لیبیا کے دارالحکومت سے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے مزید شواہد ملے ہیں۔

دارالحکومت کے جنوب میں واقع فوجی اڈے کے قریب ایک نذر آتش کیے گئے گودام سے پچاس سے زائد جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

حالیہ دنوں میں طرابلس اور اس کے گرد و نواح میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ جمعہ کو ایک ہسپتال سے دو سو سے زیادہ گلی سڑی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

دوسری جانب لیبیا میں حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ طرابلس میں کرنل قذافی کی حامی فوج کی جانب سے پانی کو زہر آلود کرنے کے خدشے کے پیش نظر اتوار سے دارالحکومت کو تیل اور پانی کی ترسیل شروع کی جا رہی ہے۔

اس سے پہلے سنیچر کو اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے اپیل کی تھی کہ لیبیا میں لڑائی بند کی جائے جبکہ بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ وہ مل کر لیبیا میں نظم و نسق کی بحالی کے لیے کام کریں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ لیبیا کا بحران اب اپنے ’نئے اور فیصلہ کن مرحلے‘ میں داخل ہوگیا ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ لیبیا میں اقتدار کی منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔

بان کی مون نے افریقی یونین اور لیبیا کی منتقلئ اقتدار کی کونسل کے درمیان بہتر تعلقات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ افریقی یونین نے اب تک لیبیا میں منتقلئ اقتدار کی قومی کونسل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

سنیچر کو باغیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے طرابلس پر مکمل تسلط قائم کر لیا ہے جبکہ شہر کے مشرقی علاقوں میں اب بھی لڑائی جاری ہے۔

ملک میں ایندھن، خوراک اور طبی سامان کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ طرابلس میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اطراف لڑائی جاری ہے تاہم شہر کا مرکزی حصہ کافی پرسکون ہے۔

شہر میں کئی جگہوں پر بجلی کی تاریں کٹی ہوئی ہیں جبکہ پانی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہے تاہم پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی پر واپس آنا شروع ہوگئے ہیں اور دوکانیں اور بازار بھی کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں