’قذافی دور کے قیدیوں کے بارے میں تشویش‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ان افراد کو کرنل قذافی کے خلاف شروع ہونے والے انقلاب کو طرابلس تک پھیلنے سے روکنے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا

لیبیا کے باغیوں کا کہنا ہے کہ انہیں کرنل قذافی کے دور میں طرابلس میں قید کیے جانے والے ہزاروں قیدیوں کے مستقبل کے بارے میں تشویش ہے۔

لیبیا کی باغی فوج کے ترجمان کرنل احمد عمر بانی کا کہناہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران پچاس ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔

باغیوں کو یقین ہے کہ اُن قیدیوں کو زیرِ زمین ایسے بنکرز میں رکھا گیا ہے جن کا استعمال پہلے ہی چھوڑا جا چکا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ان کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے درجنوں افراد کا قید خانوں کے قریب قتلِ عام کیا گیا تاہم کرنل بانی نے اُن قیدیوں کے قتل کا الزام کسی پر عائد نہیں کیا۔

کرنل بانی نے بن غازی میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایک اندازے کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران ستاون سے ساٹھ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔

باغی فوج کے ترجمان کے مطابق اب تک دس سےگیارہ ہزار قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے تاہم باقی قیدیوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔

کرنل بانی نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی کو اُن قیدیوں کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو وہ آگے آئیں۔

لاکر بی بمبار غنودگی میں

دوسری جانب لیبیا کے باغی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا سنہ انیس سو اٹھاسی میں لاکربی بم کیس میں ملوث عبدل باسط علی محمد المگراہی کو سکاٹ لینڈ حوالے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سنہ انیس سو اٹھاسی میں سکاٹ لینڈ میں پین اے ایم کی فلائٹ کو بم سے اڑا دیا گیا تھا جس میں دو سو ستر افراد سوار تھے۔ ہلاک شدگان میں زیادہ تر امریکی تھے۔

سکاٹ لینڈ کی حکومت نے المگراہی کو یہ کہہ کر رہا کیا تھا کہ وہ مثانے کے کینسر میں مبتلا ہیں اور تین ماہ سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ المگراہی کی رہائی اور لیبیا میں ان کے شاندار استقبال کے بعد سکاٹ لینڈ کی حکومت پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔

امریکی ٹی وی سی این این نے اتوار کو ایک رپورٹ میں بتایا کہ المگراہی طرابلس میں موجود ہیں اور غنودگی کی حالت میں ہیں اور کسی وقت بھی مر سکتے ہیں۔

المگراہی کے بیٹے خالد نے سی این این کو بتایا ’ہم انہیں صرف آکسیجن دے رہے ہیں، ہمیں ان کی صحت کے بارے میں کچھ بتایا نہیں جا رہا، یہاں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہے، ہمارے پاس فون کرنے کی سہولت نہیں ہے۔‘

لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے وزیرِ انصاف محمد الا آلاگی نے طرابلس میں میڈیا کو بتایا کہ لیبیا کے کسی بھی شہری کو مغربی ممالک کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ محمد المگراہی کے خلاف پہلے بھی مقدمہ چلایا جا چکا مگر اب ایسا نہیں ہو گا، ہم لیبیا کے شہریوں کو کسی کے حوالے نہیں کریں گے۔

متنازع پھانسیاں

بن غازی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جون لین کا کہنا ہے بن غازی اور دوسری شہروں پر کنٹرول حاصل کرنے کے دوران کرنل قذافی کی حامی فوج نے متعدد باغیوں اور ان کے حمامیوں کو قید کر لیا تھا۔

نامہ نگار کے مطابق ان افراد کو کرنل قذافی کے خلاف شروع ہونے والے انقلاب کو طرابلس تک پھیلنے سے روکنے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے ان کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ باغیوں کے طرابلس پر قبضے سے پہلے کرنل قذافی کی حامی افواج نے کم از کم سترہ قیدیوں کو ہلاک کیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں طرابلس اور اس کے گرد و نواح میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور ہفتے کو دارالحکومت کے جنوب میں واقع ایک وئیر ہاؤس کے قریب ایک قتل گاہ کا پتہ چلا ہے جہاں پچاس لاشوں کے ٹکڑے ملے ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ ان ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے۔

لیبیا کے باغیوں نے دو دن کی شدید لڑائی کے بعد دارالحکومت طرابلس سمیت ملک کے زیادہ تر علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ دارالحکومت میں بنیادی سہولیات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں