’ہتھیار ڈال دو ورنہ حملے کیلیے تیار ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لیبیا کے باغی رہنماؤں نے معمر قذافی کی حامی فوج کو عندیہ دیا ہے کہ ہفتے کے روز تک ہتھیار ڈال دیں ورنہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہو جائیں۔

لیبیا کی باغی کونسل کے رہنما مصطفیٰ عبدالجلیل کا کہنا ہے کہ یہ عندیہ قذافی کی حامی فوج کے لیے ہے جو سرت اور دیگر قصبوں میں موجود ہے۔

یہ عندیہ اس وقت آیا ہے جب کرنال قذافی کی اہلیہ اور تین بچوں نے الجزائر میں پناہ لے لی ہے۔

دوسری جانب کرنل قذافی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

بن غازی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جلیل نے کہا کہ اگر قذافی حامی فوج کی جانب سے ہفتے کے روز تک ہتھیار ڈالنے کے اشارے نہ ملے تو پھر فیصلہ فوجی کارروائی ہی کے ذریعے ہو گا۔

’ہم یہ نہیں کرنا چاہتے لییکن اب ہم مزید انتظار نہیں کرسکتے۔‘

کونسل کے فوجی سربراہ کرنل احمد عمر بانی نے کہا کہ ڈیڈلائن بہت قریب ہے اور ابھی تک کوئی مثبت اشارے نہیں مل رہے۔

یاد رہے کہ پیر کو معمر قذافی کی اہلیہ، ایک بیٹی اور دو بیٹے لیبیا سے فرار ہو کر الجزائر پہنچ گئے تھے۔

الجزائر کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ قذافی کی اہلیہ صفیہ، بیٹی عائشہ اور بیٹے محمد اور ہنیبل پیر کی صبح لیبیا سے الجزائر پہنچے۔

اقوامِ متحدہ میں الجزائر کے سفیر مراد بن مہدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کو انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملک میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ان افراد نے لیبیا اور الجزائر کی سرحد پیر کی صبح برطانوی وقت کے مطابق سات بج کر پینتالیس منٹ پر عبور کی۔تاہم ابھی تک کرنل معمر قذافی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق قذافی خاندان کے لیے الجزائر ایک پناہ گاہ ہے کیونکہ دونوں ممالک کی لمبی سرحد ہے اور اس نے ابھی تک باغیوں کو تسلیم نہیں کیا۔

اسی بارے میں