کولمبو:’انسداد دہشت گردی، نئی قانون سازی‘

سری لنکا میں تشدد
Image caption اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں سری لنکا پر تمل باغیوں کے خلاف لڑائی میں جنگی جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے

سری لنکا میں حکومت نے ایک نئی قانون سازی متعارف کرائی ہے جس کے تحت مشتبہ دہشت گردوں کو بغیر کسی الزام حراست میں رکھا جا سکے گا۔

سری لنکا کے وزیر انصاف راؤف حکیم نے بی بی سی کو بتایا کہ نئی قانون سازی ملک میں پہلے سے موجود انسداد دہشت گردی ایکٹ کے علاوہ ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں نئی قانون سازی کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب متنازع ہنگامی یا ایمرجنسی قوانین کو منگل کی رات ختم کر دیا گیا۔

سری لنکا:’بمباری میں عام شہری ہلاک ہوئے‘

ان قوانین کا نفاذ سنہ انیس میں اکہتر میں تمل ٹائیگرز باغیوں کے خلاف جنگ کے دوران کیا گیا تھا اور پارلیمنٹ ہر ماہ اس میں توسیع کرتی تھی۔

ان قوانین کے تحت سکیورٹی فورسز کو بے پناہ اختیارات حاصل تھےتاہم اب بظاہر بین الاقوامی دباؤ کے تحت ان قوانین کا خاتمہ کر دیا گیا۔

وزیر انصاف راؤف حکیم کا کہنا ہے کہ’ ایمرجنسی کے خوفناک قوانین کے تحت گرفتار کیے گئے ایک ہزار مشتبہ دہشت گردوں کو ممکنہ طور پر آئندہ ماہ رہا کر دیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ زیر حراست بارہ سو سے پندرہ سو کے قریب افراد کو رہائی مل سکتی ہے تاہم بعض دیگر افراد کو حراست میں رکھنے کی ضرورت ہے۔‘

وزیر انصاف کے مطابق اس میں’ سخت گیر مشتبہ شدت پسند‘ شامل ہیں اور ممکنہ طور پر الزام عائد کیے جانے تک ان کو حراست میں رکھا جائے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئی قانون سازی کے تحت حکومت نامعلوم تعداد میں افراد کو حراست میں رکھ سکے گی۔

سال دو ہزار نو میں تمل باغیوں کو شکست دینے کے بعد حکومت کا کہنا تھا کہ ان کی تحویل میں بارہ ہزار کے قریب شدت پسند ہیں اور گزشتہ دو سال کے دوران ان میں سے زیادہ تر کو رہا کر دیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے ایمرجنسی قوانین ختم کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا جب آئندہ ماہ اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کی کونسل کا اجلاس جنیوا میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں تمل باغیوں کے خلاف جنگ کے آخری دور میں مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کے مطابق تمل باغیوں کے خلاف جنگ کے آخری ماہ میں سری لنکن فورسز کی بھاری بماری کی وجہ سے دسیوں ہزار عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں تمل ٹائیگرز پر بھی عام شہریوں کو انسانی ڈھال بنانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

اسی بارے میں