قابضین کے خلاف گوریلا جنگ لڑیں:قذافی

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عوام نوآبادیاتی نظام کے خلاف برسرِ پیکار ہیں:قذافی

لیبیا کے روپوش رہنما کرنل معمر قذافی نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایک ’طویل جنگ‘ کے لیے تیار ہیں اور انہوں نے اپنے حامیوں سے ملک پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف گوریلا جنگ شروع کرنے کو کہا ہے۔

معمر قذافی کہاں ہیں یہ کوئی نہیں جانتا تاہم جمعرات کو عرب ذرائع ابلاغ نے ان کے تین پیغامات نشر کیے ہیں۔

ادھر کرنل قذافی کے مخالف باغیوں نے ان کے آبائی شہر سرت میں موجود ان کے حامیوں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے دی گئی مہلت میں ایک ہفتے کا اضافہ کر دیا ہے جبکہ مغربی رہنماؤں نے لیبیا میں عبوری طور پر نظامِ حکومت سنبھالنے والے باغیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے مخالفین سے مفاہمت کی راہ اختیار کریں۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں تریسٹھ ممالک کے مندوبین نے لیبیا کے معاملے پر بحث کے لیے منعقدہ اجلاس میں شرکت کی ہے۔

کرنل قذافی کئی ماہ سے روپوش ہیں اور ان کی جائے پناہ کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں۔ شام کے الراعی ٹی وی نے ان کی الجزیرہ پر نشر ہونے والی ایک تقریر چلائی ہے جس میں لیبیائی رہنما نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ لیبیا پر قابض ہونے والوں کے خلاف گوریلا جنگ شروع کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ طرابلس میں مخالفین میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اب ان کا آبائی شہر سرت ملک کا نیا دارالحکومت ہے۔ انہوں نے باغیوں سے بھی کہا کہ وہ لیبیائی قبائل کے ساتھ معاہدہ کر لیں جبکہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیٹو ان کے ملک میں مداخلت بند کر دے۔

اس سے قبل الراعی پر ہی نشر ہونے والے اپنے دس منٹ طویل صوتی پیغام میں کرنل قذافی کا کہنا تھا کہ ’عوام نوآبادیاتی نظام کے خلاف برسرِ پیکار ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’آزادی کی خاطر بڑی قربانیاں دینا ہوں گی۔ غدار اپنے انجام کو پہنچیں گے اور نیٹو اور اس سے وفادار غدار تباہ ہو جائیں گے‘۔ یہ ان کا پہلا پیغام تھا جو اچانک ہی ختم ہوگیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیبیا کے بیشتر حصے کا کنٹرول باغیوں کی نیشنل ٹرانزیشنل کونسل کے پاس ہے

تاہم چند گھنٹے بعد ایک اور پیغام نشر کیا گیا جس میں کرنل قذافی نے کہا کہ وہ ’ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہیں اور دو ہزار لیبیائی قبائل ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں‘۔

گزشتہ بدھ کو الراعی ٹی وی پر ہی کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کا ایک پیغام نشر ہوا تھا جس میں انہوں نے بھی لڑائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ تاہم قذافی کے ہی ایک اور بیٹے سعدی نے ایک مختلف چینل پر نشر ہونے والے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ خونریزی سے بچنے کے لیے باغیوں سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ باغی گروہوں کے قذافی کے حامی شہروں اور قصبوں پر آہستہ آہستہ کنٹرول کے بعد اب لیبیائی رہنما کے قریبی حلقوں میں اختلافات سامنے آنے لگے ہیں۔

قذافی مخالف افواج نے سرت شہر کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر سنیچر تک شہر میں موجود معمر قذافی کے حامیوں نے ہتھیار نہ ڈالے تو وہاں بڑا فوجی آپریشن کیا جائے گا لیکن اب حکام کا کہنا ہے وہ پرامن تصفیے کے لیے اس مہلت میں ایک ہفتے کا اضافہ کر رہے ہیں۔

اس وقت لیبیا کے بیشتر حصے کا کنٹرول باغیوں کی نیشنل ٹرانزیشنل کونسل کے پاس ہے۔ باغیوں کے رہنماؤں نے پیرس میں اس اجلاس میں عالمی رہنماؤں سے ملاقات بھی کی جو فرانس کے صدر نکولس سرکوزی اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے لیبیا کی صورتحال پر بلایا تھا۔

اس اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سمیت چین اور روس، جس نے لیبیا کی عبوری حکومت کو تسلیم کر لیا ہے، کے نمائندوں سمیت تریسٹھ ممالک کے مندوبین شریک ہوئے۔

آج سے ٹھیک بیالیس برس قبل دو ستمبر کو ہی کرنل معمر قذافی لیبیا کے شاہ ادریس کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہوئے تھے اور یہ اجلاس اسی دن منعقد کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ اب لیبیا کا اصل چہرہ نہیں ہیں۔

اسی بارے میں