لیبیا پر پیرس میں عالمی اجلاس

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیبیاء میں باغی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں

فرانس کے صدر نکولس سرکوزی اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون لیبیا سے متعلق پیرس میں ایک عالمی اجلاس کرنے والے ہیں۔

اس اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سمیت چین اور روس، جس نے لیبیا کی عبوری حکومت کو تسلیم کرلیا ہے، کے نمائندے بھی شریک ہونگے۔

امکان ہے کہ لیبیا کی عبوری حکومت ’نیشنل ٹرانزیشنل کونسل‘ ( این ٹی سی) اس اجلاس میں جمہوری طریقہ کار، سکیورٹی اور تعمیر نو جیسے اہم معاملات میں مدد کے لیے کہےگی۔

کونسل کو ابھی تک کرنل معمر قذافی کو پکڑنے میں کوئی کامیابی نہیں ملی ہے اور ان کے بیٹے سیف الاسلام نے آخری دم تک لڑنے کی بھی بات کہی ہے۔

آج سے ٹھیک بیالیس برس قبل دو ستمبر کو ہی کرنل معمر قذافی لیبیا کے شاہ ادریس کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہوئے تھے اور یہ اجلاس اسی دن منعقد کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ اب لیبیا کا اصل چہرہ نہیں ہیں۔

اس اجلاس میں بھارت سمیت دنیا کے تقریبا ساٹھ ملک شرکت کریں گے۔ اس دوران این ٹی سی کو سفارتی سطح پر ایک اور بڑی کامیابی اس وقت ہاتھ لگی جب روس نے بھی اس کی حکومت کو تسلیم کرلیا۔

روس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے ملک نے چار ستمبر سنہ انیس سو پچپن کو لیبیا کے ساتھ رابطے استوار کیے تھے اور تب سے اب تک بغیر کسی روک کے سفارتی تعلقات جاری ہیں چاہے طرابلس میں اقتدار کسی کے بھی ہاتھ میں رہا ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک میں عوام اقتدار کی تبدیلی محسوس کر رہی ہے

چین جس نے لیبیا میں زبردست سرمایہ کاری کی ہے اور نیٹو کے فضائی حملوں پر سختی سے نکتہ چینی کرتا رہا ہے، اس نے بھی اس اجلاس میں اپنا نمائندہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

حالانکہ چین نے ابھی پوری طرح سے این ٹی سی کو تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن وزارت خارجہ نے اس کے رول اور پوزیشن کی اہمیت کا اعتراف کیا ہے۔

الجیریاء نے بھی کہا ہے کہ حکومت تسلیم ہونے کے بعد وہ این ٹی سی کو تسلیم کرلے گا اور اس نے قذافی کو لینے کی بات کبھی نہیں کہی ہے۔

ادھر برطانیہ کی رائل ایئر فورس 130 ملین پاؤنڈ لے کر طرابلس جا رہی ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو اقوامِ متحدہ نے قذافی کے دورِ اقتدار کے اواخر میں منجمد کردی تھی۔

یہ رقم اس 950 ملین پاؤنڈ کا حصہ ہے جو لیبیا کے سینٹرل بینک کے حوالے کی جانی ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق یہ رقم لیبیا کی کیش مشینوں اور بینکوں میں بہت جلد دستیاب ہو گی۔

دوسری جانب لیبیاء کے رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی نے ایک آڈیو پیغام میں باغیوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ان کے والد معمر قذافی اور لیبیا کی قیادت محفوظ ہے۔ انہوں نے یہ پیغام باغیوں کے کنٹرول میں دارالحکومت طرابلس کے مضافات سے شام کے دارالحکومت دمشق میں قائم ٹی وی چینل الرائی کو دیا۔

سیف الاسلام کا یہ پیغام ان کے بھائی سعدی کے اس بیان کے چند منٹ بعد آیا جس میں سعدی نے کہا تھا کہ ان کو باغیوں کی نیشنل ٹرانزیشنل کونسل کے ساتھ مذاکرات کرنے کا اختیار ہے۔

تاہم باغیوں کی کونسل نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ کونسل کے ملٹری کمانڈر کا کہنا ہے کہ قذافی کے شہر سرت کو گھیرے میں لینے کے لیے باغیوں کی پیش قدمی جاری ہے۔

اسی بارے میں