صدر اوباما کی تقریر، اعتراض پر دن تبدیل

فائل فوٹو، صدر اوباما تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریپبلکن جماعت کے بعض رہنماؤں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر کی تقریر کے دن کا انتخاب ایک سیاسی چال ہے

امریکی صدر براک اوباما نے کانگریس کے سپیکر جان بوہینر کے اعتراض کے بعد کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں اپنی تقریر کا دن تبدیل کر دیا ہے۔

امریکی صدر اوباما کی تقریر میں روز گار کے نئے مواقع اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے منصوبہ پیش کرنے کی بہت زیادہ توقع ہے لیکن ان کی تقریر کا دن ریپبلکن جماعت کی ایک بحث سے متصادم ہو رہا تھا۔

ایوان نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کے سپیکر جان بوہینر نے امریکی صدر سے درخواست کی تھی کہ وہ کانگریس سے ریپبلکن جماعت کی بحث کے ایک روز بعد خطاب کریں جسے اب وائٹ ہاؤس نے تسلیم کر لیا ہے۔

اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کی جانب سے اصرار کیا جا رہا تھا کہ آئندہ بدھ کی شام کو کیلیفورنیا کی رونلڈ ریگن لائبریری سے ریپبلکن سال دو ہزار بارہ کی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی بحث اور صدر اوباما کی تقریر کا دن ایک ہی ہونا ایک اتفاق ہے۔

تاہم اس پر ریپبلکن جماعت کے متعدد رہنماؤں نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر اوباما کی جانب سے تقریر کے دن کا انتخاب ایک سیاسی چال ہے۔

ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے چیئرمین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ صدر کی تقریر کے پہلے شیڈول سے ثابت ہوتا ہے کہ ’یہ وائٹ ہاؤس ہر وقت سیاست کرتا ہے۔‘

ایوان نمائندگان کے سپیکر جان بوہینر کے ترجمان برینڈن بک نے وائٹ ہاوس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے پہلے سے وضع کردہ قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا ہے اور سپیکر کے دفتر کی جانب سے کوئی تاریخ نہیں دی گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اب تقریر کا دن تبدیل کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔

’ ہم نے خط جاری کرنے سے پہلے تاریخ پر سپیکر سے مشورہ کیا تھا تاہم انھوں نے تعین کیا کہ جمعرات کا دن بہتر رہے گا۔‘

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق’صدر اوباما اپنی تقریر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشی ترقی کی فوری ضرورت پر توجہ مرکوز رکھیں گے، اور انھوں نے جمعرات آٹھ ستمبر کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع کو خوش آمدید کہا ہے۔‘

اب جمعرات کو پرائم ٹائم پر این ایف ایل کھیل جس میں گرین بے پیکرز اور نیو اورلینز سینٹس مدمقابل ہونگے، کے سیزن کا افتتاح اور صدر اوباما کی تقریر ایک ساتھ ہو گی۔

واضح رہے کہ وسط مدتی انتخاب میں صدر اوباما کی جماعت ڈیموکریٹس کی ایوان نائندگان میں اکثریت ختم ہو گئی تھی اور کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے صدر کے خطاب کے لیے قرار داد کی منظوری درکار ہوتی ہے۔

کانگریس کا مشترکہ اجلاس عام طور پر سٹیٹ آف دی یونین کے خطاب کے لیے مختص ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ میں اس وقت بے روزگاری نو فیصد سے زائد ہے اور یہ مسئلہ سال دو ہزار بارہ کی صدارتی انتخاب کے دوران سرفہرست ہو گا۔

اسی بارے میں