القاعدہ مسلسل کمزور ہو رہی ہے: جان برینن

Image caption گزشتہ ماہ ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کے مطابق القاعدہ کے سینیئر رہنما پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں بائیس اگست کو مارےگئے

انسداد دہشت گردی سے متعلق امریکی صدر اوباما کے مشیر جان برینن کا کہنا ہے القاعدہ کے دوسرے بڑے رہنماء عطیہ عبدالرحمان کی پاکستان میں ہلاکت تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو انٹرویو دیتے ہوئے جان برینن نے کہا کہ عطیہ عبدالرحمان کی ہلاکت کے بعد القاعدہ’مسلسل کمزور‘ ہو رہی ہے۔

’القاعدہ کا سینیئر رہنما ہلاک‘

’القاعدہ کے رہنماؤں کی نشاندہی ہو گئی ہے‘

واضح رہے کہ القاعدہ کے سینیئر رہنماء عطیہ عبدالرحمان کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اطلاعات کے مطابق ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کی بعد وائٹ ہاؤس کے کسی اعلیٰ اہلکار کی جانب سے اس ضمن میں پہلا بیان ہے۔

بقول جان برینن وہ یہ پیغام پاکستان میں اپنے ہم منصبوں کو دے رہے ہیں کہ’ اس وقت پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے تاکہ وہ دوبارہ مضبوط نہ ہو جائیں۔‘

خبر رساں ایجنسی اے پی کو انٹرویو میں جان برینن نے دہشت گردوں کے خلاف پاکستان سے لیکر یمن تک کی جانے والی امریکی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کا ہی ایک اہم نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کو نائن الیون کی دسویں برسی کے موقع پر دہشت گردی کے کسی سرگرم منصوبے کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔‘

انھوں نے انسداد دہشت گردی کے خلاف پاکستان، یمن اور عراق سے تعلقات کو ایک ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی کے تحت مستقبل میں امریکہ القاعدہ کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔

’جہاں کھوج لگانے اور کارروائی کرنے کا زیادہ کام میزبان ملک نے سرانجام دیا ہے اور افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد وہاں پر بھی عراق اور یمن کی طرح کا ماڈل تیار کیا جائے گا اور وہاں پر ایک قلیل تعداد میں انٹیلیجنس اور سپیشل آپریشنز فورسز کے اہلکار اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے ان کی تربیت، مسلح کرنے اور انٹیلی جنس کا تبادلہ کریں گے تاکہ دہشت گردوں کے ہدف کا سراغ لگایا جا سکے اور انھیں دباؤ میں رکھا جا سکے۔‘

جان بینن نے دہشت گردوں کو مخاطب کر کے کہا کہ’ اگر وہ اپنی سکیورٹی کی وجہ سے پریشان ہیں۔۔۔ ان کے پاس کسی منصوبہ بندی کے لیے بہت کم وقت ہو گا۔‘

’وہ اب مستقل طور پر اپنے اطراف میں، آسمان کی جانب یا ہر جگہ دیکھنے جا رہے ہیں اور اس کی وجہ سے حقیقی طور پر ان کی آپریشنل اور حملے کرنے کی صلاحیت متاثر ہو گی۔‘

انھوں نے اس ضمن میں القاعدہ کے رہنماء عطیہ عبدالرحمان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کس طرح امریکہ کا دہشت گردوں کے نیٹ ورک پر دباؤ ہے۔

جان بینن نے مزید کہا کہ ’اب ان کے پاس زیادہ دیر تک انتظامی صلاحیتوں کے فروغ کا کوئی پروگرام نہیں ہو گا اور وہ کسی ایک جگہ پر زیادہ دیر تک رک نہیں سکیں گے۔‘

انھوں نے عطیہ عبدالرحمان کی ہلاکت پر مزید کہا کہ ’ کمشین یعنی القاعدہ سے ان کو ہلاک کرنا بڑی کامیابی ہے، وہاں پر اب کوئی اسامہ بن لادن نہیں ہے اور نہ ہی ان کو معلوم ہے کہ وہاں پر کوئی اور عطیہ عبدالرحمان موجود ہے۔‘

’ کسی اور عطیہ عبدالرحمان کو اوپر آنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام جگہوں پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا جائے جہاں القاعدہ موجود ہے اور ان ممالک کے ساتھ مل کر نیٹ ورک کو ہدف بنایا جائے گا۔‘

اسی بارے میں