ایرانی جوہری عزائم پر نگراں ادارے کے خدشات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایران کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے

اقوامِ متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ اسے خدشہ ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام پر کام کر رہا ہے۔

جمعہ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسے ایسی اطلاعات ملی ہیں جن کے مطابق ایرانی میزائل کے لیے جوہری مواد تیار کیا گیا ہے۔

آئی اے ای اے کے مطابق ان کی جائزہ رپورٹ رکن ممالک سے ملنے والی جامع، قابلِ بھروسہ اور مفصل معلومات اور ادارے کی اپنی تحقیقات کے بعد تیار کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران قم کے مضافات میں واقع ایک زیرِ زمین بنکر میں یورینیم کی افزودگی کے لیے درکار آلات نصب کر رہا ہے۔

آئی اے ای اے کی یہ رپورٹ بارہ ستمبر سے شروع ہونے والے بورڈ اجلاس کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس اجلاس میں ایران کے علاوہ، شمالی کوریا اور شام پر بھی بحث ہوگی۔

اس وقت ایران اور شمالی کوریا دونوں پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔ شمالی کوریا پر پابندی کی وجہ اس کے جوہری اور میزائلوں کے تجربات ہیں جبکہ ایران پر یورینیم کی افزودگی کا عمل نہ روکنے کی پاداش میں پابندیاں لگی ہیں۔

ایران کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ مغربی ممالک یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم کو ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں