پاکستانی پر لشکرِ طیبہ کی مدد کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایف بی آئی نے جبیر پر 2009 سے نظر رکھی ہوئی تھی

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ایک پاکستانی نژاد شخص کو شدت پسندگروپ لشکرِ طیبہ کی مدد کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد اس پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق شمالی ورجینیا سے گرفتار کیے جانے والےچوبیس سالہ پاکستانی جبیر احمد پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی ملک میں لشکرِ طیبہ کی مدد کرنے کی کوشش کی اور دہشتگردی کے خلاف تحقیقات میں حکام سے غلط بیانی کی۔

امریکی حکام نے سنہ 2001 میں لشکرِ طیبہ کو غیرملکی دہشتگرد تنظیم قرار دیا تھا۔

انہیں جمعہ کو ورجینیا کے علاقے الیگزینڈریا میں جج کے سامنے پیش کیا گیا جس نے بدھ کو اس معاملے کی سماعت کرنے اور اس وقت تک جبیر کو حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔

ورجینیا کی عدالت میں استغاثہ کی جانب سے داخل کردہ بیانِ حلفی میں کہا گیا ہے کہ جبیر احمد نے سنہ 2004 میں اپنے لڑکپن میں، لشکرِ طیبہ کے تربیتی کورس میں شرکت کی تھی اور وہ ایک موقع پر کمانڈو کورس کا بھی حصہ رہے تھے۔

تاہم انہیں ایک ہفتے بعد ہی ان کے انسٹرکٹر نے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا تھا کہ وہ ابھی کم عمر ہیں۔

ان پر سنہ دو ہزار دس میں یو ٹیوب پر لشکرِ طیبہ کی حمایت میں ایک ویڈیو شائع کرنے کا بھی الزام ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ جبیر نے اس ویڈیو کی تیاری کے سلسلے میں لشکرِ طیبہ کے رہنما حافظ سعید کے بیٹے سے بھی رابطے کیے۔

استغاثہ کے مطابق ویڈیو میں بھی حافظ سعید کی تصاویر شامل کی گئی ہیں اور اس کے علاوہ اس میں بموں کا نشانہ بننے والے ٹرکوں اور لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والے جہادیوں کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ جب گزشتہ ماہ انہوں نے جبیر سے اس سلسلے میں بات کی تو اس نے اس ویڈیو سے لاتعلقی ظاہر کی جو کہ جھوٹ تھا۔

جبیر احمد سنہ 2007 میں اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ امریکہ آیا تھا اور سنہ 2009 میں ایف بی آئی نے یہ اطلاعات ملنے پر کہ جبیر کا تعلق لشکرِ طیبہ سے ہو سکتا ہے، تحقیقات شروع کی تھیں۔

اسی بارے میں