بغیر سنسر مراسلوں کی اشاعت پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تمام دو لاکھ اکیاون ہزار دو سو ستاسی سفارتی مراسلے اب آن لائن دستیاب ہیں

خفیہ معلومات کی تشہیر کے لیے سرگرم ویب سائٹ ’وکی لیکس‘ نے اپنے پاس موجود تمام امریکی سفارتی پیغامات بغیر سنسر کے شائع کر دیے ہیں۔

ماضی میں ان پیغامات کی اشاعت کے کام میں شریک عالمی اخبارات اور جرائد نے مراسلوں کی بغیر سنسر اشاعت کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے وہ اس عمل کی ’متفقہ مذمت‘ کرتے ہیں۔

وکی لیکس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس دنیا بھر کے امریکی سفارتخانوں سے بھیجے گئے جو دو لاکھ اکیاون ہزار دو سو ستاسی سفارتی مراسلے موجود تھے وہ تمام اب آن لائن دستیاب ہیں۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وکی لیکس اور برطانوی اخبار گارڈین کے مابین یہ تنازعہ بھی موجود ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہزاروں پیغامات کی بغیر سنسر اشاعت کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔

وکی لیکس پہلے ہی دسیوں ہزاروں مراسلے شائع کر چکی ہے اور پہلے اس نے یہ عمل رواں سال نومبر تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاہم جمعہ کو کمپنی کے ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا کہ ’ امریکی سفارتکاری کے پینتالیس سالوں پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ یہ آرکائیوز کو ہمیشہ کے لیے عام کردینے کا وقت ہے‘۔

اس پیغام کے بعد وکی لیکس نے اب تک سامنے نہ آنے والے تمام مراسلے ممالک کے حساب سے شائع کرنے شروع کر دیے۔ ان میں سے عراق سے چونتیس ہزار چھ سو ستاسی، کویت سے آٹھ ہزار تین، آسٹریلیا سے نو ہزار سات سو پچپن اور مصر سے بھیجے گئے بارہ ہزار چھ سو چھ مراسلے شامل ہیں۔

ایک مشترکہ پیغام میں دی گارڈین، الپیس، نیویارک ٹائمز اور در سپیگل کا کہنا ہے کہ وہ ’امریکی سفارتی مراسلوں کی بغیر سنسر اشاعت کے وکی لیکس کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ اس سے ذرائع خطرے میں پڑ سکتے ہیں‘۔

پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ماضی میں وکی لیکس سے ہمارے روابط اس واضح بنیاد پر تھے کہ ہم صرف وہی پیغامات شائع کریں گے جس کی مشترکہ طور پر تدوین کی گئی ہو اور ہم اپنی ان مشترکہ کوششوں کا دفاع کرتے رہیں گے۔ لیکن ہم سارے مواد کی غیر ضروری اشاعت کا دفاع نہیں کر سکتے درحقیقت ہم اس کی مذمت کرنے میں ساتھ ہیں‘۔

اسی بارے میں