اسرائیل:مہنگائی کے خلاف لاکھوں کے مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہماری تعداد ملک بھر میں ڈھائی لاکھ افراد سے زیادہ ہے: پولیس ترجمان

اسرائیل میں لاکھوں افراد نے ایک مرتبہ پھر معیارِ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے ہیں۔

سنیچر کو بڑے مظاہرے تل ابیب، یروشلم اور حیفہ میں ہوئے جن میں کم از کم ڈھائی لاکھ افراد نے شرکت کی جبکہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک بھر میں مظاہرہ کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ تھی۔

ان مظاہروں کا شمار اسرائیل کی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہروں میں کیا جا رہا ہے۔

مظاہرین رہائش، خوراک، تعلیم اور صحتِ عامہ کی سہولیات کے مہنگے ہونے سے پریشان ہیں اور حکومت سے خوراک اور رہائش کے لیے درکار بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی حکومت نے ان مطالبات کا جائزہ لینے کے لیے ایک وزارتی کمیٹی بنائی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے تمام مطالبات نہیں مانے جا سکتے۔

تل ابیب میں ہونے والے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ یونین کے صدر نے کہا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ تحریک سست پڑ رہی ہے ۔ آج رات ہم دکھا رہے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہم نئے اسرائیلی ہیں اور ہم ایک منصفانہ اور بہتر معاشرے کے لیے مہم جاری رکھیں گے‘۔

مظاہروں میں شریک افراد نے کتبے اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر احتجاجی نعرے درج تھے۔ ایک بینر پر تحریر تھا کہ ’ایک پوری نسل اپنا مستقبل چاہتی ہے‘ جبکہ ایک اور بینر پر لکھا تھا کہ ’دودھ اور شہد کی سرزمین لیکن سب کے لیے نہیں‘۔

ان مظاہروں کے ایک منتظم جوناتھن لیوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اسرائیل میں وہ سب لوگ جو امیر نہیں، چاہے وہ مذہبی ہیں یا سیکولر، جوان ہیں یا بزرگ یہ جانتے ہیں کہ ہم نے اس ملک میں کئی اہم محاذوں کو بھلا دیا ہے۔ یہاں مسئلہ معیشت کا ہے جبکہ توجہ صرف سکیورٹی معاملات پر دی جا رہی ہے‘۔

تل ابیب میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت ان مظاہروں کی شدت اور ان میں اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کی شدت سے ہل گئی ہے۔ ان کے مطابق جہاں کئی اور ممالک اسرائیل کی اقتصادی ترقی پر رشک کرتے ہیں وہیں اسرائیلی عوام کا شکوہ ہے کہ وہاں دولت کی تقسیم نہیں ہو رہی۔

.

اسی بارے میں